خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 263

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 263 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء ذکر آئے گا لیکن مالی قربانی میں بھی مرد کسی سے پیچھے نہیں رہے تھے۔ان میں ایسے بھی تھے کہ جو نہایت کمزور حالت میں تھے۔جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا دینے کے لئے یا بہت تھوڑا اندوختہ تھا وہ سب انہوں نے خدا کی راہ میں فدا کر دیا۔قرآن کریم ایسے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر :۱۰) کہ میرے بندوں کا یہ حال ہے کہ صرف یہ نہیں کہ امیر ہی ہوں تو خدا کی راہ میں دیتے ہیں زیور والے ہی نہیں صرف قربانیاں کرتے۔جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا وہ بھی جو کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں وہ پیش کر دیتے ہیں خدا کی راہ میں۔حضرت خلیفہ المسیح ایسے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایسے ایسے لوگوں نے اس میں حصہ لیا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔۔۔۔۔ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنی حیثیت اور طا قت سے زیادہ حصہ لیا ہے۔بعض لوگ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنا سارا اندوختہ دے دیا ہے۔بعض ایسے ہیں جنکی چار چار پانچ پانچ روپیہ کی آمد نیاں ہیں اور انہوں نے کمیٹیاں ڈال کر اس میں حصہ لیا۔یا کوئی جائیدادفروخت کر کے جو کچھ جمع کیا ہوا تھا وہ سب کا سب دے دیا ہے۔“ فرماتے ہیں: ( خطبه جمعه فرموده ۱۴ دسمبر ۱۳۹۱، بحواله تاریخ احمدیت جلد ۸ صفحه ۹۳) بعض مخلص ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنا سارا کا سارا اندوختہ دے دیا تھا۔ایک نے لکھا دوسرے سال میں نے شرم کی وجہ سے بتایا نہیں تھا۔میں نے اپنی کچھ اشیاء بیچ کر چندہ دیا تھا۔پھر تیسرے سال سب کچھ بیچ کر چندہ دے چکا ہوں۔66 تقریر فرموده ۷۲ دسمبر ۳۳۴۹۱، بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۸ صفحه: ۷۳ ۸۳) ہمارے سیالکوٹ کے ایک دوست مزدور ہوتے تھے ایک زمانے میں۔یہاں آج سٹیج پر بیٹھے ہیں ابھی ملاقات ہوئی ہے، مزدوری کرتے تھے ، اتفاق سے مہینہ بھر سے انکی مزدوری نہیں ملی