خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 20
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 20 20 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱۶ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس مادی عالم پر بھی غور فرمایا کرتے تھے اور اس کے عجائبات میں محو ہو کر محبوب ازلی کے حسن سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کو اپنے بستر پر نہ پا کر جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا تلاش کے لئے باہر نکلیں تو دیکھا کہ تاروں بھرے آسمان کے نے حضور ان آیات کی تلاوت فرما رہے ہیں : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران : ۱۹۱ ۱۹۲) یقین زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلنے میں اہل عقل کے لئے نشانات ہیں۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کا ذکر کھڑے ہو کر بھی کرتے ہیں اور بیٹھے ہوئے بھی اور لیٹے ہوئے بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے متعلق غور کرتے رہتے ہیں اور ان کی پکار یہ ہوتی ہے کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَهُذَا بَاطِلًا اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچائیو۔یعنی ہم اس زمین و آسمان کی پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اپنے محبوب آقا کی پیروی میں اپنے گردو پیش کائنات کے ذرے ذرے میں خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے عجائبات دیکھا کرتے تھے۔اور جیسا کہ انگریزی کا محاورہ ہے کہ All Roads Leads to Rome کہ ساری سڑکیں روم ہی کی طرف جاتی ہیں۔خدا کے مومن بندے جب عجائبات قدرت کا نظارہ کرتے ہیں تو انہیں ہر چیز خدا تعالیٰ ہی کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہے۔اس کے برعکس اگر چہ ایک شاعر، ایک فلسفی اور ایک سائنسدان بھی انہی عجائبات کا نظارہ کرتا ہے تو قدرت کا یہ نظارہ اس کے لئے کوئی معین پیغام لیکر نہیں آتا بلکہ وہ حیرانی کی دنیا میں کھو جاتا ہے اور ہر چیز اس کے لئے ایک سوال بن جاتی ہے۔ان عجائبات کو دیکھ کر ایک