خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 217
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 217 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء سیلاب میں نہا گئے۔پیشتر اس کے کہ اس ظالم کے کوئی ہاتھ روکتا، یہ واقعہ گزر چکا تھا تاہم نہتے نمازی خنجر بکف فیروز پر ٹوٹ پڑے اور اپنے آقا کے قاتل کو بھاگ نکلنے کی اجازت نہ دی لیکن اس کشمکش میں سات دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم شہید ہو گئے اور چھ شدید زخمی ہوئے لیکن بالآخر ا سے مغلوب کر لیا گیا، اس وقت اس نے اپنے سینہ میں خنجر گھونپ کر خود کشی کر لی۔تاریخ الخلفاء صفحه ۳۳، تاریخ الخمیس جلد دوم صفحه ۳۸) تیسرے روز حضرت عمرؓ بھی رحلت فرما گئے اور اس طرح شاران خلافت محمدیہ کا یہ پہلا قافلہ آٹھ سعید روحوں پر مشتمل ملاً اعلیٰ میں اپنے رب اور آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں حاضر ہو گیا۔۴ رنومبر کا یہ دن بلا شبہ اسلام کی تاریخ کا سب سے زیادہ تاریک اور سب سے زیادہ پر درد اور پر آلام دن تھا۔یہ اس لئے کہ اس دن اسلام پر آنے والے ہولناک مصائب کا آغاز ہوا، یہ اس لئے کہ اس دن اس دروازہ پر ضرب کاری لگی جو اسلام اور موج در موج فتنوں کے درمیان حائل تھا۔یہی وہ دن تھا جو خلافت راشدہ کے اختتام کا آغاز بنا، یہی وہ دن تھا جو حضرت عثمان اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادتوں کا پیشرو بنا اور بلا شبہ کر بلا کے دردناک واقعہ نے اسی دن کے منحوس پیٹ سے جنم لیا۔ایک کربلا ایک آفت ! نہیں نہیں ہزاروں لاکھوں کروڑوں آفات سینکڑوں کر بلائیں اسی دن کی کوکھ سے پیدا ہوئیں۔اس دن نے شکوہ کیا کہ خلافت راشدہ محمدیہ کی حفاظت کا کماحقہ انتظام نہیں ہے، اس دن نے شکایت کی کہ خلافت حقہ کی جیسا کہ حق تھا قدرشناسی نہیں کی گئی، اس دن نے یہ الزام دیا کہ خلیفۃ الرسول کے خلاف سازشوں کا بر وقت ازالہ نہیں کیا گیا۔انگلی اٹھا کر اس دن نے وہ پر غدر ایام دکھائے کہ جب حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کے خلاف سازشوں کو پنپنے کی اجازت ملنی تھی اور اس حد تک برداشت کیا جانا تھا کہ پانی سر سے گزر جائے پھر اس دن نے بڑی حسرت کے ساتھ وہ ٹوٹا ہوا دروازہ دکھایا جس کی راہ سے فتنوں کا سیلاب سرزمین اسلام میں داخل ہونا شروع ہو گیا تھا اور جس نے مستقبل قریب میں امن کے محافظ اس مقدس دروازہ کو کلیہ اکھاڑ پھینکنا تھا۔پس ایسا ہی ہوا اور یکے بعد دیگرے اسلام کے تین خلفاء راشد سید ولد آدم کے دین کی حفاظت اور خدمت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔امن اور خالص توحید کا دور ختم ہوا اور بلاؤں اور کر بلاؤں کا دور شروع