خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 216

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 216 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء کرتی تھی چنانچہ اس ہولناک فتنہ کے متعلق بھی آپ ہی نے روایت کی ہے جس کے بارہ میں آنحضور نے فرمایا کہ وہ سمندر کی موجوں کی طرح مواج ہوگا۔ایک مرتبہ اس موضوع پر گفتگو کے دوران حضرت عمرؓ سے انہوں نے بیان کیا کہ آنحضور نے ان فتنوں کی راہ میں ایک بند دروازہ حائل ہونے کی بھی خبر دی تھی۔اس پر حضرت عمرؓ اس کا مفہوم پا گئے اور پوچھا کہ بتاؤ تو سہی کہ فتنوں کی یلغار سے پہلے یہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائیگا ؟ حضرت حذیفہ نے عرض کیا ، تو ڑا جائیگا۔اس پر حضرت عمرؓ نے بڑی حسرت سے فرمایا کہ اگر تو ڑا جائیگا تو پھر کبھی بند نہ ہوگا۔“ ( بخاری کتاب الفتن باب الفنية التي تموج كموج البحر ) یہ بند دروازہ خلافت راشدہ ہی تھی جو کہ اسلام اور فتنوں کے درمیان بڑی مضبوطی کے ساتھ حائل تھی۔افسوس کہ اس دروازہ پر پہلی چوٹ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں پڑی اور خود آپ ہی کی ذات مبارک پر ایک سفاک خنجر کا حملہ وہ ضرب کاری ثابت ہوا جس نے اس مقدس دروازہ میں پہلا شگاف ڈالا۔تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ ایک ایرانی مجوسی غلام ابولولو فیروز نے بعض دوسرے غلاموں کے ساتھ مل کر آپ کے قتل کی سازش تیار کی اور ناراضگی کا بہانہ وضع کرنے کی خاطر آپ سے ایک دن مطالبہ کیا کہ میرے مالک سے کہہ کر میرا مالکانہ بڑھوا دیجئے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب وجہ پوچھی تو جواب تسلی بخش نہ پایا چنانچہ آپ نے انکار فرما دیا۔بات بہت معمولی تھی مگر گفتگو کے دوران اس نے ایک ایسا فقرہ بولا جس کا مفہوم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سمجھے کہ یہ مجھے دھمکی دیتا ہے۔چنانچہ آپ نے اپنے رفقاء سے فرمایا کہ اگر شبہ کی بناء پر کسی کا قتل جائز ہوتا تو میں اسے اس الزام میں قتل کروادیتا کہ اس نے مجھے قتل کی دھمکی دی ہے۔افسوس کہ اس تنبیہ کے باوجود اس کی نگرانی کا کوئی انتظام نہ کیا گیا اور ۳۶ / ذوالحج ۲۳ ہجری بمطابق ۴ رنومبر ۶۴۴ ء اس وقت جبکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز فجر کی امامت فرما رہے تھے، ابولولو مسجد میں داخل ہوا اور پے در پے آپ پر خنجر کے چھ وار کئے جن سے زخمی اور نڈھال ہو کر حضور و ہیں جائے نماز پر گر پڑے اور اپنے ہی خون کے