خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 182
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 182 حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ء موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یادیں وابستہ تھیں اور خدمت قرآن کی یادیں وابستہ تھیں انہوں نے ایسا آپ کے دل پر گہرا اثر کیا کہ مجھے کئی دوستوں نے بتایا کہ ان سے جب ہم نے پوچھا قادیان میں آپ نے کیا دیکھا تو شدت جذبات سے آواز گلو گیر ہوگئی ،آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے اور بتانہیں سکتے تھے کہ میں نے قادیان میں کیا دیکھا؟ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عظیم الشان فرزند کا ایک عظیم کارنامہ ہے کہ تراجم قرآن کا نظام بنایا اور پھر ان ترجموں نے دلوں کو موہا اور تر جموں کی کیفیت یہ تھی، اتنی احتیاط سے یہ ترجمے کئے گئے کہ وہ جامعہ از ہر جو کسی زمانے میں یہ فتویٰ دیا کرتا تھا کہ قرآن کا ترجمہ ہی حرام ہے کیونکہ اچھا ترجمہ ہو نہیں سکتا۔اسی جامعہ از ہر کے ایک عالم کی یہ گواہی ہے، مجلتہ الازہر میں یہ شائع ہوئی ہے، جرمن ترجمہ قرآن کے متعلق: ” میں نے مختلف مقامات اور مختلف سورتوں کی بہت سی آیات کا ترجمہ بنظر غائر دیکھا ہے۔اس ترجمے کو میں نے قرآن مجید کے جملہ تراجم سے جو اس وقت منصہ شہود پر آچکے ہیں بہترین پایا ہے۔اس ترجمے کا اسلوب علمی احتیاط سے لیا ہوا ہے اور باریک بینی کو مدنظر رکھا گیا ہے اور معانی قرآن کی ادائیگی میں انتہائی علمی قابلیت کا اظہار کیا گیا ہے تا کہ عربی میں نازل شدہ قرآنی آیات کی کماحقہ ترجمانی ہو سکے۔“ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر قرآن کا موضوع جس پر میں زیادہ تر اس وقت آپ سے مخاطب ہوں گا، بہت ہی وسیع مضمون ہے۔سب سے پہلی بات جو آپ کی تفاسیر کو پڑھنے کے بعد انسان پر ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ وہ علموں کا ایک جہان ہے اور نہ ختم ہونے والا جہان ہے یہ بڑا ہی سچا دعویٰ ہے۔کوئی دنیا کا علم ایسا نہیں ہے خواہ قدیم ہو خواہ جدید جس کا ذکر آپ کی تفاسیر میں نہیں ملتا۔قرآن کریم کی صداقت پر یا تو وہ علم گواہ کے طور پر اور خادم کے طور پر ہمیں آپ کی تفاسیر میں نظر آتا ہے یا اگر وہ جھوٹا ہے تو قرآن کریم اس علم کا رد کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ایسے دلائل اور قوی دلائل کے ساتھ کہ کوئی دنیا میں ان دلائل کو تو ڑ نہیں سکتا۔محض محبت اور جذبات کی باتیں نہیں ہیں بلکہ جیسا کے آگے بیان ہو گا حضور بارہا چیلنج کرتے رہے کہ قرآن کے ذریعے تمام جھوٹے علوم کا منہ کالا میں کر کے دکھا تا ہوں اور تمام بچے علوم کو میں قرآن کے خادم