خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 178

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 178 حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ء یہ تو حضور کا اپنا دعوئی تھا۔دشمن نے اس دعوے کو کس حد تک قبول کیا اس سلسلہ میں مولا نا ظفر علی خان صاحب کا ایک حوالہ احباب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔احباب جانتے ہیں کہ وہ تمام عمر بد قسمتی سے احمدیت کے مخالف رہے اور ایڑی چوٹی کا زور احمدیت کی مخالفت میں صرف کیا لیکن ہر کوشش کے بعد جب ناکامی کا منہ دیکھا تو نفس میں غور کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ ایک موقع پر ان کے منہ سے یہ سچائی کا کلمہ نکلا۔اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں: کان کھول کر سن لو ! تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس قرآن ہے اور قرآن کا علم ہے تمہارے پاس کیا دھرا ہے؟“ ایک خوفناک سازش از مولانا مظہر علی اظہر صفحه: ۱۹۶) حضرت لمصلح الموعود نے قرآن کی خدمت جس رنگ میں کی ہے اس کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی روشنی تو ڈالی جانہیں سکتی مختصر میں بعض پہلو آپ کے سامنے بیان کر کے پھر تفسیر والے حصہ کو نسبتا زیادہ تفصیل سے لوں گا۔پہلی بات یہ ہے کہ آپ کا اٹھنا بیٹھنا، بولنا سکوت تمام کا تمام قرآن کریم ہی سے پھوٹتا تھا۔آپ کی فکر و نظر کا منبع قرآن تھا۔آپ گفتگو فرماتے تھے تو قرآن کی تفسیر ہوتی تھی ، تقریر فرماتے تھے تو قرآن کی تفسیر ہوتی تھی تحریر فرماتے تھے تو قرآن کی تفسیر ہوتی تھی اور اس پہلو سے آپ جتنی بھی حضور کی کتب کا مطالعہ کریں گے ایک بھی کتاب ایسی نظر نہیں آئے گی جس کا مضمون قرآن کریم سے نہ پھوٹتا ہو۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی یادیں آپ سب کے دلوں میں یا کم سے کم پرانی نسل کے دلوں میں اور ذہنوں میں محفوظ ہوں گی۔گھنٹوں حضور کا تقریر کرنا، وہ سوز و گداز جس سے آپ تلاوت فرمایا کرتے تھے، وہ عشق قرآن جو آپ کے چہرے پر اس طرح چھا جاتا تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے چہرہ غائب ہو گیا ہے اور قرآن کا عشق باقی رہ گیا ہے۔گھنٹوں مدہوش ہو کر ، مست ہو کر ہمارا ان تقریروں کوسننا۔بسا اوقات رات آجایا کرتی تھی، قمقمے روشن ہو جاتے تھے، بیٹھے بیٹھے سامعین تھکتے نہیں تھے ہاں یہ تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش یہ سلسلہ محبت و عشق جاری رہے، جاری رہے۔رات آئے اور صبح میں تبدیل ہو جائے، صبح آئے اور رات میں تبدیل ہو جائے لیکن کوئی ایک دل اس آواز کو سنتے