خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 177
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 177 حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ ء مطلب ہے کہ تمام مفسرین نے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تک کی تفسیر کی ہے آگے کسی نے نہیں کی ؟ اس کے متعلق میرے دل میں یہ تعبیر ڈالی گئی کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تک تو بندے کا کام ہے جو اس جگہ آکر ختم ہو جاتا ہے آگے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ: ۶) سے خدا کا کام شروع ہو جاتا ہے تو تمام مفسرین کے اس حصہ کی تفسیر نہ لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس حصہ کی تفسیر تو کر سکتا ہے جو انسانوں سے متعلق ہے اور جن کاموں کو انسان کرتا ہے ان کو بیان کر سکتا ہے مگر اس حصہ کی تفسیر کرنا اس کی طاقت سے باہر ہے جس کا ذکر خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔“ ( رویاء و کشوف سید نا محمود صفحه ۷،۶) بہر حال حضرت اقدس مصلح موعودؓ نے خدا تعالیٰ سے ہدایت اور رشد پا کر قرآن کریم کی خدمت کا کام شروع کیا اور تمام دنیا کے سامنے آپ چینج بنے اور بڑے زور سے للکار کر بتایا کہ میں نے چونکہ خدا کی ہدایت اور خاص مدد سے قرآن کریم کی خدمت کا معجزہ پایا ہے اس لئے کوئی نہیں جو اس میں میرا مقابلہ کر سکے۔آپ فرماتے ہیں: قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی کسی اور کتاب کو حاصل نہیں۔اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی وید کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی تو ریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے، اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی ایسا استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں بھی استعارہ سمجھوں پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی نہ پیش کروں تو وہ بے شک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے - 66 سواد نیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں۔“ ( سوانح فضل عمر جلد ۳ صفحه: ۱۵۱)