خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 163

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 163 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء کے مظالم ڈھائے گئے۔فتح کے بعد زار کو سات مہینے جہاں قید رکھا گیا اس کی جوان بیٹیوں اور ایک معصوم بیمار بچے پر جو مظالم ڈھائے گئے وہ بہت ہی دردناک ہیں۔سات مہینے تک شرابی اور شقی القلب سپاہی ان ماں اور باپ کے سامنے ان کی جوان بیٹیوں سے زنا کرتے رہے اور جب وہ ماں تکلیف کو برداشت نہ کرتے ہوئے منہ پھیر لیتی تھی تو سنگینیں مار مار اس کا منہ پھیرا جاتا تھا کہ دیکھواس حالت کو دیکھو مخش کلمات ان کی دیواروں پر لکھے جاتے تھے، گندے گانے ان کے سامنے گائے جاتے تھے۔بیار بچہ جس میں چلنے کی طاقت نہیں تھی اس کو سنگینیں مار مار کے اٹھایا جا تا تھا کہ کام کرو اور یہ پھر وقتی جذبے کی بات نہیں تھی سات مہینے مسلسل ان درد ناک مظالم کا شکار کر کے ان کو مارا گیا اور پھر جس فخر کے ساتھ اور انقلابی نعروں کے ساتھ اور جس رعونت کے ساتھ وہ انقلاب آیا ہے وہ ساری حقیقت دنیا جانتی ہے۔اس کے برعکس آنحضرتﷺ جب مکہ میں داخل ہو رہے تھے کوئی غرور کوئی تکبر نہیں تھا۔سر عجز کے ساتھ ایک فاتح کا سراتنا جھک گیا تھا کہ زمین کے ساتھ لگ رہا تھا۔ان تمام ظالموں کو جنہوں نے اس سے بہت زیادہ ظلم کئے تھے جو زار نے کئے ، ان تمام ظالموں کو جنہوں نے ان لوگوں پر ظلم کئے تھے جو معصوم تھے ایک ہی سلے میں لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ آپ نے بخش دیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن هشام، ذکر فتح مکہ ) ایسا عظیم الشان تضاد ہے کہ صرف یہی اسلام اور اشتراکیت کی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔اشترا کی فتح کے لئے اگر جھوٹ بولنا پڑے، ظلم کرنا پڑے، جبر کرنا پڑے، مکر کرنا پڑے تو یہ ساری چیزیں اشتراکیت کے نزدیک حسین اخلاق کے دائرے سے تعلق رکھتی ہیں۔چنانچہ اس پہلو سے بھی اگر دیکھا جائے تو اسلام ایک انتہائی مشکل صورت میں پڑا ہوا ہے۔اس کے بظاہر کہ اسلام کے انقلاب بر پا کرنے کے لئے اتنی عظیم پابندیاں ہیں کہ ان پابندیوں میں رہ کر اگر انقلاب برپا کیا جائے تو یہ ایک عظیم الشان فتح قرار دی جاسکتی ہے۔اس کے بعد میں اب چند اصولی باتیں جو بنیادی تعلیم سے تعلق رکھتی ہیں آپ کے سامنے مختصراً پیش کرتا ہوں۔اسلام اپنے اقتصادی نظام میں جو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے بعض ایسے امور کو مدنظر رکھتا ہے جو اس کی اقتصادی تعلیم کے اوپر ہر رنگ میں غالب ہیں۔ان امور میں سے ایک امر یہ