خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 162
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 162 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء رکھنے والا تھا جس کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ (الفاتحہ: 4 ) اور خالق مخلوق کو مغضوب نہیں کہ سکتا جب تک وہ اس کے بندوں پر غضب ناک نہ ہو اور مسلمہ حقیقت ہے کہ یہودی اپنے غضب میں ایک مثال بن چکے ہیں اس دنیا میں۔صرف یہی نہیں بعض دفعہ تاریکی سے نور بھی نکل آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مارکس ( Karl Marx) نے اس یہودی اصلیت کو قائم رکھا۔اس کی تمام زندگی اس بات کی آئینہ دار ہے کہ وہ انتہائی غضب ناک اور منتقم مزاج شخص تھا۔بڑے بڑے محسنوں کو بھی ادنی سی غلطی پر اس نے پکڑ کی اور ہمیشہ ان سے نفرت اور حقارت کا سلوک کیا۔وہ جو تعلیم دیتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے دن آنے دو ہم اپنے غضب کے لئے اور اپنے انتقام کے لئے بہانے نہیں ڈھونڈیں گے۔ہم بزور شمشیر ہلاکت کے ساتھ تمہارے موجودہ نظام کو برباد کریں گے اور اپنا نیا نظام چلا کر دکھائیں گے۔معافی کا عفو کا کوئی تصور اشترا کی دنیا میں نہیں ملتا۔اس کے برعکس اسلام کی ساری تعلیم رحمت ، عفو اوران نرم جذبات سے گوندی ہوئی ہے جو ساری کی ساری رحمت سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں۔اس سلسلے میں تفصیل کا تو موقع نہیں صرف اشارۃ اتنا کہنا کافی ہوگا کہ اشترا کی پہلا انقلاب یا پہلی عظیم فتح زار روس کی شکست ہے جو اشتراکیوں کی مخالفت میں اس نے اٹھائی اور تاریخی حیثیت سے اس کے مقابل پر فتح مکہ کو پیش کیا جاسکتا ہے جو اسلام کی پہلی عظیم الشان فتح تھی۔ان دونوں کے حالات پر آپ غور کریں زار روس پر غالب آنے کے بعد شاہی خاندان اور کثیر تعداد میں لاکھوں کی تعداد میں، حکومت سے تعلق رکھنے والے افراد پر جو مظالم ڈھائے گئے اس کی تاریخ انتہائی دردناک ہے۔احمدیوں کے لئے تو اس کا سمجھنا تو کچھ مشکل نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ان دردناک حالات کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار ( در نمین صفحه: ۱۵۱) ہزاروں زار حالتیں ان لوگوں پر آئی ہیں آخر خدا نے اس حقیقت کو چن کر پیش گوئی کے طور پر جو بیان فرمایا اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ایک تاریخ ہے شہزادی کی تھرین نے ان حالات کی لکھی ہے اس کی تفصیل کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں انسان کے جس قسم