خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 154

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 154 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء طرح اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے ، ہر ہر سانس کے ساتھ اور کروٹ کروٹ اس نے دعائیں کیں۔صبح بھی وہ دعا گو ہوا اور شام کو بھی اور دن کو بھی اور رات کو بھی ، روشنی میں بھی اور اندھیرے میں بھی ، شب ہائے غم میں بھی اور ایام خوشی میں بھی اپنے محبوب رسول اپنی جان سے پیارے آقا کی طرح وہ دعا ہی کے ساتھ پیدا ہوا ، دعا ہی کے ساتھ زندہ رہا اور دعا کے ساتھ ہی اس نے جان دی۔وہ آنکھیں ابھی زندہ ہیں جو اسے دیکھتی تھیں اور اس کی دعاؤں کی قبولیت کا نظارہ کرتی تھیں۔وہ دل ابھی دھڑک رہے ہیں جو از لی اور ابدی حقیقت پر گواہ ٹھہرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور قبول فرماتا ہے جو خلوص کامل کے ساتھ اُسی کے ہو رہتے ہیں دنیا اس حقیقت سے بے خبر ہوتو ہو لیکن اے مسیح محمدی کے غلامو! تمہارے لئے قبولیت دعا کی حقیقت سے بے خبر ہونے کی کوئی گنجائش نہیں۔وہ مستجاب الدعوات احمد عربی کا غلام گو آج ہم میں نہیں مگر ہزار ہا غلامانِ غلام احمد ایسے چھوڑ گیا ہے جو قبولیت دعا کا زندہ نشان ہیں۔پس لوگوں کے لئے جگ بیتی ہو تو ہو لیکن تمہارے لئے تو یہ ایک ایسی آپ بیتی ہے جو ہزارہا بارتم پر بیت چکی۔بار ہا تم ابتلاؤں کی چکی میں پیسے گئے مگر ماں سے زیادہ پیار کرنے والے رحمان خدا نے تمہیں صحیح سالم نکال لیا۔بار ہا تم پر مخالف وطن کی آگ بھڑکائی گئی مگر رحمت باری کا پانی آسمان سے برسا اور اسے ٹھنڈا کر دیا۔وہ دن یاد کرو جب اسی وطن عزیز کی گلیاں تمہیں کاٹنے کو دوڑتی تھیں اور اپنے تمہیں بیگانوں کی طرح دیکھتے تھے ، جب ماحول کے تیور بدل گئے تھے اور شر پھیلانے والوں نے ایسا شر پھیلا رکھا تھا کہ اپنے اور بیگانے خون کے پیاسے بن گئے تھے۔جب وہ عشاق کو دشمنان محمد کہہ کر گردن زدنی قرار دیا جارہا تھا اور ایک احمدی کی نہ تو جان محفوظ رہی تھی ، نہ ہی مال وعزت، خطرات ایسی مہیب صورت اختیار کر چکے تھے کہ ظاہر بین آنکھ احمدیوں کو چند دن کے مہمان دیکھ رہی تھی اور دم توڑتے ہوئے مریض کی سانسوں کی طرح عدم اور وجود کے درمیان لٹکا ہوا دیکھ رہی تھی۔اس وقت خدا کے مومن بندے ایک شدید زلزلے کی ابتلاء میں ڈالے گئے اور خطرات میں گھرے ہوئے ہر گھر سے خدا کے حضور گریہ وزاری کے شور بلند ہوئے۔یہ وہ دن تھے جب جماعتی نظام کے سینے میں مصلح موعود کا دل دھڑک رہا تھا۔پس وہ دل ایسا مضطرب و بے قرار ہوا اور اس زور