خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 141
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 141 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء کوششوں کا جواب دینے کے لئے قوانین قدرت اور مخفی خزانوں کی صورت میں اپنے قریب پاتے ہیں۔جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے رب رحمن کے ساتھ عبدیت کے ایک وسیع اور ابتدائی تعلق سے یہ گروہ بھی اسی طرح استفادہ کرتا ہے جس طرح حقیقی عباد اللہ اور اس پہلو سے تمام عباداللہ بلا امتیاز مذہب و ملت ، نیک و بد، صغیر و کبیر اپنے خالق کے برابر فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس دودھ ہی کو دیکھ لیجئے جو بچے کی آہ و پکار پر ماں کی چھاتیوں میں اترتا ہے کیا یہ اس کی ذاتی کوشش یا محنت سے آتا ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ دودھ کے نظام کا ماں کو عطا ہونا اور بچے کی تڑپ پر اس کا اچھلنا یہ سب خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ ایسے قوانین کے تابع ہوتا ہے جنہیں خدا تعالیٰ نے پیدا ہوتی ہوئی کائنات کے خمیر میں اس وقت گوندھا تھا جب ابھی نہ کسی ماں کا وجود تھانہ کسی بچے کا۔پس خدا گواہ ہے کہ اگر بصیرت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو جب کبھی کسی بچے کے بلکنے پر ماں کی چھاتیاں دودھ سے بھر جاتی ہیں تو وہ ماں کی عطا نہیں ہوتی بلکہ خدائے رحمن ورحیم کی عطا ہوتی ہے اور جب کبھی بچے کی طمع اور خوف کی چیخ و پکار پر ایک ماں بے تابانہ میرے لعل میں قریب ہوں ، میں قریب ہوں کی آواز دیتی ہے تو بخدا وہ ماں کی آواز نہیں بلکہ خالق کون و مکان کی آواز ہوتی ہے جو اپنی ایک معصوم مخلوق کی غیر شعوری پکار کے جواب میں اسے اِنِّي قَرِيبٌ کی لوریاں دیتی ہے پس وَ اِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ کا پہلا مفہوم یہ ہے کہ ایک عالم کون کے ذرے ذرے میں خالق کے بارے میں بندوں کے ہر سوال کا جواب پنہاں ہے۔وہ اپنی ہر ضرورت کو اسی کائنات کے اندر پورا ہوتے دیکھتے ہیں اور ہر طلب پر اس عالم کون میں اپنی طلب کا جواب پاتے ہیں۔إنِّي قَرِیب کا دوسرا مفہوم :۔یہ نظام کائنات خواہ کیسا ہی مکمل کیوں نہ ہو اور قیامت تک کے لئے ہی خواہ اس میں تمام ضروریات حیوانی اور انسانی مہیا کیوں نہ کر دی گئی ہوں اور خواہ ذرہ ذرہ اس عالم کا ایک کامل خالق کی طرف بیتابانہ اشارے کیوں نہ کر رہا ہو اور عقل بھی ان اشاروں کو دیکھ کر وجود باری تعالیٰ کی قائل کیوں نہ ہو جائے پھر بھی یہ سوال پیدا ہوگا کہ کہیں ایسا تو نہیں ایک دفعہ اس عظیم اور کامل نظام کی تخلیق و ترتیب کے بعد اور اسے ارتقا کی راہ پر ایک ابدی حرکت کا دھکا دے کر ہمارا خالق ہم سے غافل و بے نیاز ہو گیا ہو؟ کہیں وہ قصہ تو نہیں جیسے کہانی کے بیان کے مطابق کوئی شہزادہ کسی ایسے شہر میں جانکلتا ہے جہاں ہر قسم کی دکانیں کھلی اور قرینے سے بھی ہوئی ہیں مگر