خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 140
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 140 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء مگر کبھی کبھی اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں شعوری طور پر اپنے رب سے دعا کا رشتہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس گروہ کے متعلق بھی جس سے حقیقی عبدیت کی صفات شاذ و نادر اور نہایت خفیف طور پر ظاہر ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کا اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ کا وعدہ اسی نسبت اور اسی حد تک پورا ہوتا ہے۔تیسرا درجہ عبد ہونے کا آخری درجہ ہے جس کے حصول کی راہ آیت کے اس حصہ میں دکھائی گئی ہے کہ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ یعنی اے میرے کامل بندے ! میرے ادنیٰ اور عام بندے جب میرے بارے میں سوال کریں گے بتادے کہ وہی ہوں میں جو اپنی تخلیق کے پردے میں ہر جگہ جلوہ گر ہوں۔اگر تم صاحب نظر ہو تو میرے قرب کا احساس کئے بغیر تمہارے لئے چارہ نہیں کیونکہ شعوری طور پر بھی جب کبھی سراب کی کیفیات میں کامل خلوص کے ساتھ پکار کرتے ہو تو میں وہی ہوں جو تمہیں قبولیت کے رنگ میں جواب دیتا ہوں پس میرے جلووں کے ان عام مشاہدات کے بعد اگر تم چاہتے ہو کہ میرے حقیقی عبد بنو اور حقیقی قرب کا تعلق مجھے سے جوڑو تو اس کا طریق ہے کہ میرے فرمان اور ہدایات کے مطابق اپنی زندگی کے اطوار چلا ؤ اور میرے مومن بندوں کی صف میں آکھڑے ہو۔اگر تم ایسا کرو تو یقیناً میرے صاحب رشد بندوں کے گروہ میں شمار کئے جاؤ گے۔پس جیسا کہ مضمون کی تدریج و تسلسل سے ظاہر ہے کہ تیسرا گروہ بندگان خدا کا وہ ہے جو عبودیت کی مذکورہ شرائط کو پورا کرتا ہے اور حقیقی معنوں میں لفظ عبادت کا مصداق ٹھہرتا ہے اور اسی حد تک قرب الہی اور قبولیت دعا کے وعدے کا بھی اہل قرار دیا جاتا ہے۔پس آیئے اب ہم الگ الگ ان تینوں گروہوں کے حالات کی سیر کر کے دیکھیں کہ کس کس حد تک بندگان خدا عبد بنے کا حق ادا کرتے اور اس کے مطابق قرب الہی کے کیا کیا نظارے دیکھتے ہیں؟ پہلی قسم عباد کی وہ ہے جس کا قبل از میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ وہ محض مادی تخلیق کی حد تک اپنے خالق سے ایک غیر شعوری تعلق رکھتی ہے اور شعوری طور پر نہ تو اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور نہ اس کی ضرورت سمجھتی ہے۔یہ عبد کا کم از کم معنی ہے جو بلا استثناء ہر انسان کے حق میں پورا ہوتا ہے۔پس اسی نسبت سے قرب خداوندی کا کم از کم وعدہ صرف ظاہری معنوں میں ان عباد کے حق میں پورا کیا جاتا ہے یعنی جب وہ اپنی ضروریات کے لئے مادی دنیا میں کوشش کرتے ہیں تو ہمیشہ اپنے خالق کو ان