خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 660

خطابات نور — Page 79

ڈگری حاصل کرنے کے واسطے اے۔بی۔سی شروع کرنے کے زمانہ سے لے کر ایم اے کے امتحان تک کس قدر امتحانوں کے نیچے آنا پڑتا ہے۔کس قدر روپیہ اس کے واسطے خرچ کرتا ہے اور کیا کیا مشکلات اور مشقتیں برداشت کرتا ہے۔باوجود اس کے بھی یہ یقینی امر نہیں ہے کہ ایم اے پاس کرلینے کے بعد کوئی کامیاب زندگی کاسلسلہ شروع ہوجائے گا۔بسا اوقات دیکھا جاتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ تعلیم میں طالب علم کی صحت خطرناک حالت میں پہنچ جاتی ہے اور ڈپلومہ اور پیام موت ایک ہی وقت آپہنچا ہے۔اس محنت اور مشقت اور ان امتحانوں کی تیاری، روپیہ کے صَرَف سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا یا والدین نے کیا؟ مگر اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ کے لئے ابتلائوں اور امتحانوں میں پڑنے والا کبھی نہیں ہوا کہ وہ ناکامیاب اترا ہو اور نامراد رہا ہو۔ان لوگوں کی لائف پر نظر کرو اور ان کے حالات پڑھو جن پر خدا تعالیٰ کے مخلص بندے ہونے کی وجہ سے کوئی ابتلا آیا اور انہوں نے ثبات قدم، استقلال اور صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور پھر بامراد نہ ہوئے ہوں ایسی ایک بھی نظیر نہ ملے گی۔۱۲؎ دنیاوی علوم و فنون کی تحصیل کے لئے غور کرو کہ ابجد شروع کرکے ایم۔اے کی ڈگری تک پھر امتحان مقابلہ والادینے اور دوسرے اخراجات ضرور یہ خرید کتب وغیرہ میں کس قدر محنت، وقت اور روپیہ صرف ہوتا ہے اور ہم کرتے ہیں مگر اس کے بالمقابل قرآن کریم کو اپنا دستورالعمل بنانے کے واسطے ہم اس کے پڑھنے اور سمجھنے کے واسطے کس قدر محنت اور کوشش اور روپیہ ہم نے خرچ کیا ہے؟ اس کا جواب یہی ہوگا کہ کچھ بھی نہیں۔اگر اس کے واسطے ہم عشر عشیر بھی خرچ کرتے تو خدا تعالیٰ کے فضل و رحمت کے دروازے ہم پر کھل جاتے۔مسلمانوں کے افلاس ان کی تنگدستی اور قلاشی کے اسبابوں پر آئے دن انجمنوں اور کانفرنسوں میں بحث ہوتی اور بڑے بڑے لیکچرار اپنی طلاقت لسانی سے اس افلاس کے اسباب بیان کرتے ہیں۔میں نے بھی ان لیکچروں کو پڑھا ہے اور مسلمانوں کے افلاس کے اسباب پر بھی غور کی ہے۔مسلمانوں کے افلاس پر نظر : ان تمام ریفارمروں اور لیکچراروں کا اسی پر اتفاق ہوتاہے کہ چونکہ مسلمانوں میں ہائی ایجوکیشن نہیں رہی اس لئے یہ اعلیٰ عہدوں کے حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں اور یہی اصلی باعث ہے۔پھر اس ہائی ایجوکیشن کے نعروں سے لیکچر ہال گونجا دئے جاتے ہیں۔لیکن میں جب ان لیکچروں کو پڑھتا ہوں تو