خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 59 of 660

خطابات نور — Page 59

آگاہ ہوتے تو انکار ہی نہ کرتے اعمال صالحہ کی حقیقت میں رسول کی سچی اتباع ضروری جزو ہے پھر اعمال صالحہ سے واقف اور اس کے پابند کیسے ہوسکتے ہیں۔اور ایک بات یہ بھی ہے کہ بعض امور اصولی طور پر معلوم ہوتے ہیں لیکن ان پر عمل کرنا یا سچا اور حقیقی ایمان پیدا ہونا اور گناہ سے نفرت کرنا اور بچنا یہ باتیں صرف ایک رسمی یا خیالی علم سے نہیں ہوسکتیں مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب کفار کو مخاطب کرکے فرمایا(لقمٰن :۲۶)یعنی جب ان سے پوچھا جاوے کہ خَالِقُ السَّمٰوٰ تِ وَالْاَرْضِ کون ہے؟ تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ اللہ ہی ہے اور اپنی اپنی حاجت پرستی کے متعلق بھی وہ یہی سمجھتے اور کہتے تھے یُقَرِّبُوْنَ اِلَی اللّٰہِ بِالْحَقِّ یعنی خدا تعالیٰ کے قرب میںپہنچاتے ہیں پھر قرآن شریف کا ایک سطر میں توحیدی وعظ کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ تو ہم پہلے ہی سے جانتے ہیں۔پھر ایسا کون سا مذہب ہے جو سچ بولنے کو اچھا نہ سمجھتا ہے یا عام اخلاق کی ضرورت محسوس نہ کرتا ہو اور تو اور بدکار سے بدکار آدمی بھی بدکاری کو بُرا سمجھتا ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ اس سے باز بھی رہے اور بدی کو چھوڑ کر نیکی اختیار کرے۔پس انبیاء علیہم السلام نرا علم دینے کے لئے نہیں آتے ہیں بلکہ وہ اپنے اندر ایک کشش اور جذب کی قوت رکھتے ہیں جس سے دنیا کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور پھر اپنی قوت قدسی کا اثر ان پر ڈالتے ہیں اور وہ لوگ جو ان کی پاک صحبت میں رہتے ہیں ان کے پاک اور کامل نمونہ سے فائدہ اٹھاکر اپنے اندر بدیوں کو دور کرنے اور رذائل سے بچنے اور فضائل کے حاصل کرنے کی قوت پاتے ہیں۔مگر یہ قوت اور طاقت اور توفیق کب ملتی ہے۔اس وقت جبکہ وہ اس کے فیض صحبت سے بہرہ ور ہوں اور ان کی مجلس کے آداب کی نگہداشت کریں اور ان میں ایسی وحدت ارادی ہو کہ سارے کے سارے ایک َکل کے نیچے کام کرتے ہوں اور سب کے سب حبل اللہ کو مضبوط پکڑے رہیں اور ان کی آوازیں نبی کی آواز پر بلند نہ ہوں یہ ہے وہ اصل جس سے انسان روحانی کمالات کو مامور کی صحبت میں حاصل کرتا ہے اور صحابہ نے اسی اصل کو مضبوط پکڑ کر سب منازل سلوک طے کیں۔یاد رکھو قوم قوم نہیں بنتی اور انعام نازل نہیں ہوسکتے جب تک وہ ایک شیرازہ میں جمع نہ ہوں