خطابات نور — Page 53
ہوا تو آپ نے پوچھا کہ تم اتنے دنوں تک کیوں نہیں آئے۔میں نے عرض کی کہ یونہی آنا نہیں ہوسکا۔اس پر مجھے فرمایا کہ کیا تم کبھی قصاب کی دکان پر بھی نہیں گئے ہو؟ دو تین مرتبہ اس فقرہ کو دہرایا مگر میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس سے آپ کا کیا مطلب ہے اور میری غیر حاضری اور حاضری کو اس سے کیا تعلق؟ پھر آپ نے ہاتھ کے اشارہ کے ساتھ سمجھایا کہ دیکھو قصاب تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اپنی دونوں چھریوں کو کس طرح باہم رگڑ لیتا ہے حالانکہ بظاہر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔اس سے عارف کو سبق لینا چاہئے کہ دنیا کے دھندوں اور تعلقات میں انسان کے قلب پر ایک قسم کا زنگ چڑھ جاتا ہے اور معرفت کی تیزی جلد کند ہونے لگتی ہے جس کے واسطے ضروری ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً صادقوں کی صحبت میں رہ کر اس زنگ کو دور کرتا رہے اور ان کی نیک صحبت سے اس تیزی اور جلا کو قائم رکھے۔قرآن کریم میں اسی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ہے۔(التوبۃ :۱۱۹) میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوںبیشمار کتابوں کے پڑھنے نے مجھے اتنا فائدہ نہیں دیا جس قدر خدا تعالیٰ کے صادق بندوں کی صحبت نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے اور اب میں سالہا سال سے تجربہ کررہا ہوں کہ قادیان میں بیٹھ کر جس قدر فائدہ میں نے اٹھایا ہے اپنی ساری عمر میں نہیں اٹھایا جو قادیان سے باہر بسر کی ہے اور چونکہ انسان کی فطرت میں یہ امر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہوا ہے کہ وہ نفع رساں اشیاء کو لینا چاہتا ہے اور مضر اور نقصان رساں سے بھاگتا ہے۔اسی لئے میں قادیان سے باہر ایک دم گزارنا بھی موت کے برابر سمجھتا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ میں قادیان سے باہر ہزاروں روپیہ پیش کرنے کی صورت میں بھی جانا نہیں چاہتا۔ہاں اگر کبھی نکلتا ہوں تو محض اس لئے کہ اس پاک وجود کا حکم ہوتا ہے جس کے حضور حاضر رہ کر یہ عظیم الشان فائدہ اٹھا رہا ہوں۔جس نے ہزاروں نہیں لاکھوں بلکہ دنیا کے سارے مال و متاع سے مجھے مستغنی کردیا ہے۔میں نے یہ باتیں اس لئے نہیں کی ہیں کہ میں تمہیں یہ بتائوں کہ امام کے ساتھ میرا کیسا تعلق ہے؟ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ (بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی)۔میری غرض فقط یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو خصوصاً ان دوستوں کو جو مجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں ان فوائد سے