خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 573 of 660

خطابات نور — Page 573

طرح سمجھ سکیں اور بیان کر سکیں غرض وہ نطفہ صراط مستقیم پر چلنے کا عادی ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ قسم قسم کی بلائیں جفائیں ہوتی ہیں مگر محبّل ان قسم قسم کی چیزوں کو پھینک دیتی ہے یہ رحم کے باہر ایک میدان ہوتا ہے اس طرح پر نطفہ صراط مستقیم پر چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ رحم کے اندر کسی مقام پر جاکر عورت کے مادہ سے مل جاتا ہے اور ترقی کرتا ہے اس کے ہر ضلعے پر دائرہ ۲۔۴۔۱۶۔۳۲۔۶۴۔۱۲۸تک مل جاتے ہیں اور وہ لغو فضلوں کو الگ کر کے اسے جائز اور مناسب نشوونما عطا کرتا ہے یہاں تک کہ پھر ایک ۲۔۳اور ایک کے چاربھی دیکھے ہیںبچوں کی شکل میں پیدا ہوتا ہے۔اب غور کرو عناصر کو انسان کی صورت میں ترقی کرنے کے لئے کس قدر منازل سے گزرنا ہوتا ہے اگر ہر منزل اور مرحلہ پر ان لغویات کو جو اس حالت اور حصہ میں ساتھ ہوتی ہیں وہ الگ نہ کریں تو اس قدر ترقی حاصل نہیں ہوتی اسی طرح پر انسان کا روحانی خلق اور نشوونما ہو نہیں سکتا جب تک وہ لغویات سے نہ بچے۔وا لّاوہ نطفہ گر جاتاہے۔اس کو اس پیدائش کے لئے رِحم سے ایک تعلق رکھنا چاہیے۔اس لئے مومنین کو بھی فرمایا کہ رحم سے تعلق ہو اور رحم سے تعلق کی مانع چیزوں کو ہٹادے اور یہی وجہ ہے کہ روحانی تعلیم کے لئے اس کا نام علق رکھا۔علق تعلق ہی سے نکلاہے۔دوسرا ذریعہ یا گُر اس لئے جیسے نطفہ کو اس سے ترقی کیلئے لغویات سے الگ رہنا ضروری ہے اسی طرح ایک مومن روحانی پیدائش اور نشوونما کے لئے خشوع کی حالت سے گزر کر آئندہ لغویات سے پرہیز کرے چنانچہ فرمایا:۔مومن ہر چند نماز بھی پڑھتا ہو۔لیکن ترقی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کی نماز میں خشوع ہو اپنے آپ کو وہ بالکل ایک مردہ زمین تصور کر کے فضل الہٰی کی بارش کا امید وار ہو۔تب اس کے اندر خوبیوں کے بیج نشوونما پائیں گے اور ان تخموں کے نشوونما کے لئے ضروری ہے کہ مضر اور لغو حصوں سے الگ رہے۔لغویات کو دور کرنے کا نظارہ بھی عجیب ہے۔کسان کس طرح لغو چیزوں کو کھیتوں سے الگ کر دیتے ہیں اسی طرح مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ لغویات کو ترک کرے۔اسی کا نام روحانی اصطلاح میں ترک شر بھی ہے اور نواہی سے بچنا بھی ہے۔پس کامیابی اور مظفر ومنصور ہونے کا دوسرا گُر یہ ہے کہ لغویات سے بچ کر جنابِ الہٰی سے تعلق رکھے۔یہی تعلق ہے جو جسمانی پیدائش