خطابات نور — Page 549
(العنکبوت:۴۶تا۵۲) کل کی تقریر پر ہی میں بقیہ بیان کرنا چاہتا تھا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی۔فہم ، فراست ، وقت، زبان، صحت عطا ہوئی تو میں اس حصہ کے پورا کرنے کا اب بھی ارادہ رکھتا ہوں لیکن اس وقت کسی نے کہا قرآن پڑھ کر سنائو۔اللہ تعالیٰ نے مجھ کو توفیق دی اور کہا۔میری کتاب پڑھ دو۔اللہ تعالیٰ کی کتاب ایسی ہے (حٰم السجدۃ:۴۳)نہ آئندہ اس کو کوئی چیز باطل کرنے والی پیدا ہوگی نہ پہلے کوئی ایسی چیز پیدا ہوئی ہے جس سے یہ باطل ہوتی ہو۔ایسی کتاب کے پڑھنے میں ہم کو کوئی شرم نہیں آتی جو مذہب ہم نے پیش کیا ہے اس کے پیش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہو سکتا۔میرے دل میں کامل ایمان اور یقین سے یہ بات ہے کہ اس کتاب کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف پر مجھے ایمان اور اس پر کامل محبت ہے اور اس کے کسی ایک حرف پر بھی مجھ کو کبھی اعتراض ہوا ہی نہیں۔محبوب کی ساری کی ساری ہی ادائیں دلربا ہوتی ہیں۔کوئی کہتا ہے ؎ زفرق تابقدم ہر کجا کہ مے نگرم کرشمہ دامن دل میکشد کہ جا اینجاست قرآن کریم میں جہاں دیکھتے ہیں دلربا بات موجود ہے میں نے اس کتاب کے سمجھنے میں دھوکا نہیں کھایا میں نے اس کے سمجھنے میں جلد بازی نہیں کی۔میں نے قرآن کریم سے محبت کرنے میں عاقبت اندیشیوں سے کام لیا ہے۔ایک سہل بات بتاتا ہوں اس کتاب پر عمل کر کے صحابہ کرامؓ دنیا میں کیسے عظیم الشان ہوئے۔صحابہؓنے اس پاک کتاب کی اتباع سے دنیا میں زلزلہ ڈال دیا۔بڑے بڑے بہادر سور ما ان کے سامنے کس طرح ذلیل ہوتے تھے یہ نتیجہ اسی بات کا تھا کہ وہ اس کتاب پر عملدرآمدکرتے تھے۔اس کتاب کو پڑھ کر ہزاروں غوث بن گئے قطب ،ولی بن گئے۔اس کتاب کی طفیل لوگوں نے خدائے تعالیٰ سے باتیں کیں اور خدا تعالیٰ نے ان سے کیں۔یہ کہنا کہ ہم سائنس