خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 538 of 660

خطابات نور — Page 538

کیا ہے ان میں اتفاق رائے سے جو سب سے اعلیٰ دعا ہو وہ مجھ کو سنائو۔کہنے لگے آپ اپنی دعا سنائیں۔میں نے کہا آپ نے تو تمام مذاہب کی دعائوں کا انتخاب کیا ہے تعجب ہے کہ اسلام کی دعائوں کو نہیں جانتے۔کہا ہاں یہ غلطی تو ہے پھر کہنے لگا کہ جنرل بوتھ نے دس گھنٹے دعا مانگی اور میرے سامنے مانگی۔میں نے کہا اس دعا کا کوئی فقرہ آپ دس سیکنڈ میں سنا دیں کہنے لگا دور سے آواز نہیں آتی تھی۔میں نے کہا ممکن ہے وہ شراب کے نشہ میں سورہا ہو۔غرض وہ ادھر نہ آیا یہی کہتا رہا وہ بڑی جماعت کا مقتدا ہے۔میں نے کہا اس نے کوئی دعا نہیں کی ورنہ ایک فقرہ ہی سنائو۔میں نے کہا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو ایک آیت اونچی پڑھ دیتے تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ فلاں سورۃ پڑھتے ہیں۔انجیل میں مسیح کی آخری دعا تو یہی ہے کہ ایلی ایلی لما سبقتنی او خدا تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا۔میں نے اس کو بہت ہی مجبور کیا کہ اپنی دعا مجھ کو سنائو لیکن اس نے کہا پہلے آپ سنائیں پیچھے میں سنائوں گا۔میں نے کہا اچھا آئو پہلے ہماری ہی دعا سنو پھر میں نے سورۃ فاتحہ انہیں( ہندئووں کی) زبان میں جو مجھ کو کچھ آتی ہے ترجمہ کر کے سنائی۔سن کر فوراً نوٹ بک نکال کر کہنے لگا کہ اس کو اپنے ہاتھ سے لکھ دیں اس جیسی تو کوئی دعا ہو ہی نہیں سکتی۔میں نے کہا اب تم سنائو کہا کہ مجھ کو تو اب ان تمام دعائوں سے شرم آتی ہے اس دعا کے مقابلہ میں ہرگز کوئی دعا سنانے کے قابل ہے ہی نہیں۔ہم پر کیا احسان ہوا ہے۔کیا شان ہے اس کتاب کی جس کی تعریف ہے  (حٰم السّجدۃ :۴۳) (الواقعۃ:۸۱) اس کے آگے پیچھے بطلان آسکتا ہی نہیں سب تحقیقاتوں کے مقابلہ میں یہی قرآن ہے آئندہ جو ہوں گی ان کے لئے بھی یہی قرآن ہے۔ربّ العالمین کی یہ تنزیل ہے۔بہت سے لوگ انجمنیں بناتے ہیں وہ کیوں کامیاب نہیں ہوتے؟ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اصل الاصول میں لا الہ الا اللّٰہ کو نہیں رکھتے کوئی ہمدردئ حیوانات، کوئی موت فنڈ، کوئی زندگی کا بیمہ۔اگر سب سے مقدم خدائے تعالیٰ کو کر لیتے تو خدا ئے تعالیٰ ان کو مقدم کر لیتا  (اٰل عمران :۱۰۳) تم فرمانبردار ہو کر مرو۔(اٰل عمران :۱۰۴)۔اللہ تعالیٰ نے الزام کے طور پر ہر مدرسہ