خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 520 of 660

خطابات نور — Page 520

نتیجہ ہے کہ اسلام کو اب تم اپنے گھروں میں پاتے ہو۔آج خود گھر کے لوگ اس پر ہنسی اڑاتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ اسلام دنیا میں پھیلا ہی کیوں اور کس طرح؟ کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے (جو کہ اسلام کو پیش کرتا ہے) پڑھنے سے نہ تو ملازمت ہی ملتی ہے نہ آسودگی ہوتی ہے نہ مکان عالی شان ملتے ہیں پھر اسے پڑھیں تو کیوں پڑھیں۔ایک شخص انگریزی پڑھنے میں اس قدر محو تھا کہ وہ ہر وقت انگریزی ہی کو رٹتا رہتا۔اگر وہ نماز کے لئے بھی اٹھتا تو قیام میں بھی انگریزی، رکوع اور سجود میں بھی انگریزی۔غرض ہر وقت اور ہر حال میں انگریزی ہی پڑھتا دکھائی دیتا۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیوں تو ایسا کرتا ہے اس نے جواب دیا کہ انگریزی اس وقت ہماری گورنمنٹ کی زبان ہے دفاتر کی زبان ہے اس کے پڑھنے سے ہماری بہتری ہے بتائیے کہ ہمیں اور کہیں سے کیا مل سکتا ہے؟ ہماری یہ حالت کیوں ہوئی ہم نے اپنی یہ حالت خود بنائی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری ہم عصر قومیں ترقی کر رہی ہیں اور ہم خواب غفلت میں پڑے خراٹے لے رہے ہیں۔وہی قومیں جو ذلیل تھیں اور جن کو ہم ذلت اور حقارت سے دیکھتے تھے آج وہ ہماری سردار ہیں۔دیکھو ایک پکوڑے بیچتا ہے تم اس پر ہنسی کرتے ہو۔پھر چند دنوں کے بعد تم سب اسے شاہ جی شاہ جی کہنے لگ جاتے ہو اور اس کے سامنے اپنی ساری ضرورتیں لے جا کر اس سے روپیہ طلب کرتے ہو۔میں جس وقت مسلمانوں کی حالت پر غور کرتا ہوں تو میرا دل لرز جاتا ہے۔اپنے اپنے افعال اور اعمال کا خوب خوب موازنہ کرو اور دیکھو کہ اگر دنیا کے خراب لوگ چوری کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، زنا کرتے ہیں، غصب حقوق کرتے ہیں، جوا کھیلتے ہیں، قماربازی کرتے ہیں اور دیگر زمانے بھر کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں تو کیا تم لوگ وہ ساری باتیں نہیں کرتے؟ کیا تم میں ایسے بہت سے لوگ نہیں جو نہایت قبیح افعال کے مرتکب ہوتے ہیں؟ اللہ کریم نے ہمیں ایک کتاب بخشی تھی جن بزرگوں نے اس پر عمل کیا وہ تو سربرآوردہ ہو گئے۔دنیا ان کا لوہا مان گئی۔دنیا اور اس کے بادشاہوں کے لئے وہ باعث رشک ہو گئے اپنے گھروں میں ہوتے یا بادشاہوں کے درباروں میں جاتے ہر ایک جگہ ان کا رعب ہوتا اور بڑا رعب ہوتا۔اب وہ کتاب تو موجود ہے جس سے یہ تمام برکات پیدا ہوئی تھیں جس