خطابات نور — Page 519
کوئی ترکیب نہ سوجھے گی۔ایک میرا دوست تھا اس کو ایک دفعہ جناب نواب لفٹننٹ گورنر بہادر پنجاب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔جب وہ نواب صاحب بہادر سے ملاقات کر چکا اور اٹھنے کا وقت قریب ہوا تو نواب صاحب بہادر موصوف نے پوچھا کہ کیا آپ اردو فارسی بھی پڑھے ہوئے ہیں اس نے کہا حضور پڑھا ہوا ہوں۔اس پر اس نے ایک خوش وضع اور خوش نما جلد کی اور نہایت عمدہ کاغذ پر خوشخط چھپی ہوئی ایک انجیل دی اور کہا کہ اگر آپ میری محبت کی قدر کرتے ہیں تو میں اپنی محبت کے لحاظ سے آپ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ اسے ضرور پڑھیں گے۔وہ مسلمان تھا اور بڑا امیر با اثر اور صاحب ثروت مسلمان تھا۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے نواب صاحب بہادر موصوف کی اس بات سے کچھ فائدہ بھی اٹھایا یا نہیں؟ اس نے جواب دیا کہ اس سے میں نے صرف اتنا ہی سمجھا ہے کہ یہ لوگ نہایت کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اپنے مذہب کی اشاعت ضرور ہو۔میں نے کہا کہ دیکھو یہ کتنے بڑے بادشاہ ہیں۔جناب نواب لفٹننٹ گورنر بہادر کی حکومت سکھوں کے بادشاہ کی حکومت سے کئی درجے بڑھ کر ہے۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں سرحد میں ستلج کا دوسرا کنارہ اور اٹک علیحدہ تھی اسے نصیب نہ ہوا کہ دہلی پر بھی حکومت کر سکے۔نابھہ۔جیند وغیرہ ریاستوں پر بھی تصرف نہ تھا۔مگر یہ شخص اتنی بڑی سلطنت کا مالک ہو کر اپنی کتاب کی اشاعت میں کس طرح لگا ہے۔تم بھی امیر ہو با اثر ہو، صاحب ثروت اور وجاہت ہو، اللہ کے فضل سے تمہیں سب کچھ میسر ہے پر سچ کہنا کہ کیا قرآن کریم کے لئے بھی تم نے کبھی ایسی کوشش کی ہے جیسی یہ لوگ کر رہے ہیں؟ میرے عزیزو! تم جو اب یہاں بیٹھے ہو۔ذرا انصاف سے خدا لگتی کہنا یہ بچے تو کیا سمجھیں گے تم میں سے جو ذرا عمر میں بڑے ہیں البتہ وہ غور کر سکتے ہیں وہ خوب غور کریں اور بتائیں کہ کیا یہ جواب ہم کرتے ہیں اور کر رہے ہیں اگر ایسی ہی اور اسی جوش اور سرگرمی سے پچھلے زمانے کے بڑے بڑے آدمی بھی کوششیں کرتے تو کیا اسلام پھیل سکتا؟ کیا اس کی اشاعت یوں دنیا بھر میں ہو جاتی کیا اس کی آواز بٹالہ تک پہنچ جاتی؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔بات یہ ہے کہ وہ مہتم بالشان اور مہتم بالارادہ اشخاص نہایت ہی عظیم الشان کوششیں کرتے تھے اور یہ انہی کی قابل تعریف کوششوں کا