خطابات نور — Page 495
منعم علیہ اور مغضوب وضال {تقریرفرمودہ ۱۷؍جون ۱۹۱۲ء صبح بمقام مسجد احمدیہ بلڈنگس لاہور} دوسری تقریر کا تتمہ۔بعد اصلاح حضرت خلیفۃ المسیحؓ شائع ہوئی۔(الفاتحۃ :۶،۷) انعامات الٰہیہ: کل میں نے یہی آیت پڑھی تھی مگر انہوں نے ایسا وقت رکھا کہ بولا جانا مشکل معلوم ہوا۔اللہ تعالیٰ عدم سے ہم کو نکال کے لاتا ہے اور وجود بخشتا ہے یہ بھی اس کا انعام ہے ہم پر، جو انعامات الہٰیہ ہیں ان کی کوئی حد نہیں۔ایک آیت پر غور کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے فرماتا ہے (ابراہیم :۳۵) اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہرگز اس کے شمار و حدبست پر قادر نہیں ہو سکتے۔پھر یہ کس قدر اس کے فضل کی بات ہے کہ تمہاری تمام فطرتی خواہشوں کے سامان اس لئے عطا فرمائے ہیں۔(ابراہیم :۳۵) جو کچھ تمہاری حالت نے مانگا اس نے عطا کیا۔خدا تعالیٰ کے انعامات بے حد۔ایک طرف انسان کی فطرتی ضرورتوں کا پورا ہونا دوسری طرف، پھر میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب مجید میں فرماتا ہے۔(الانعام : ۱۹) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر حکمران ہے۔اس آیت پر تدبّر کرتے ہوئے ایک مرتبہ میں حیران ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ تو تمام کائنات کے ذرّہ ذرّہ پر حکمران ہے۔جمادات، نباتات، حیوانات، فرشتوں، سورج، چاند تمام فلکیات پر حکمران ہے۔یہ کیا فرمایا خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر حکمران ہے؟ قرآن کریم کا طریق استدلال: میں اس آیت پر بہت سوچتا رہا آخرمیں اس طرف متوجہ کیا گیا کہ قرآن کریم کا طرز استدلال کیا ہے؟یورپ ، امریکہ، ہندوستان اور چائنا کے متکلم ہمیشہ استدلال بالمثل کرتے ہیں۔مثلاً وہ