خطابات نور — Page 494
واقعی ہے۔ہوسکتا ہے تمہارے علوم، تجربے اور معلومات میں وسعت ہو۔ہوسکتا ہے میرے بیان میں کمزوری ہو۔ہوسکتا ہے تمہیں ایک واقعہ معلوم ہو اور مجھے نہ ہو مگر یہ بات کہ میری عمر بڑی ہوچکی ہے اور قویٰ ضعیف ہوچکے ہیں اگرچہ میرے کان، زبان وہ طاقت نہ رکھتے ہو ں مگر یہ یقینی بات ہے کہ قرآن مجید پر عمل انسان کو خوف و حزن سے نکال دیتاہے۔میں نے اپنی تمام عمر میں تجربہ کیا ہے اور جہاں تک میںقرآن کریم کی تعلیم کو سمجھتا ہوں انسان خوف و حزن سے بچ جاتا ہے۔میرے دوست بے شک کہہ د یں کہ کیا میں کبھی غمگین ہوا ہوں یا انہوں نے مجھے کسی خوف سے روتے دیکھا ہے۔وہ برسوں سے میرے پاس رہتے ہیں۔انہوں نے مجھے خوف اور حزن میں نہیں دیکھا پس اگر تم خوف و حزن سے بچنا چاہو اور اس کا علاج کرنا چاہو تو قرآن کریم کی اتباع سے ہوتا ہے مگر ایک شرط سے۔وہ یہ ہے کہ علم صحیح ہو اور اس کے ساتھ عمل ہو۔علم بدون عمل کے کچھ فائدہ نہیں دیتا۔مثلاً یہاں کنواں ہے کوئی شخص جو اس کا علم صحیح رکھتا ہے وہ اس میں نہیں گرے گا۔مسلمانوں کو یہ صحیح علم ہے کہ قران مجید کی تعلیم کے ذریعہ وہ خوف و حزن سے محفوظ رکھے گئے لیکن جب تک عمل نہ ہو کچھ فائدہ نہیں۔میں اب بس کرتا ہوں ایک تو وقت ایسا تنگ ہے کہ بولنے کی زیادہ گنجائش نہیں۔(ایڈیٹر۔مغرب کا وقت قریب ہوگیا تھا) دوسرے جب سننے والوں میں کسی وجہ سے گھبراہٹ ہو تو بولنے والے کو خود مزہ نہیں آتا۔(البدر ۱۸؍جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۳ تا ۷) ٭ … ٭ … ٭