خطابات نور — Page 482
یہ آیت ایک مسلمان کو نوع انسان کے تمام راستبازوں اور برگزیدوں کی اتباع کی تعلیم دیتی ہے۔وہ خواہ کسی ملک اور کسی قوم میں ہوتے ہوں کیونکہ اس میں یہ نہیں کہا کہ ان لوگوں کی راہ بتا دو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متبع ہیں یا صحابہ اور تبع تابعین کے متبع ہیں یا ان کی راہ جو اجماع اور قیاس صحیح کے قائل ہیں یا احادیث کے قائل ہیں یا صوفی مشرب ہیں کسی خاص قوم اور فرقہ کا نام نہیں لیا بلکہ کوئی ہوں‘۔ہاں منعم علیہ ہوں۔وہ یہودیوں میں ہوں‘ عیسائیوں میں ہوں‘ مجوسیوں میں ہوں‘ آریہ ورت میں ہوں۔کینفوشس لیوٹ کے متبع ہوں، کسی قوم اور کسی ملک میں ہوں۔کتنا وسیع خیال اور عام احسان ہے۔جس کی تعلیم اسلام دیتا ہے۔جو نعمت تیرے حضور مسلّم ہے اور جو انعامات تو نے اپنے اس برگزیدہ لوگوں پر خواہ وہ کہیں بھی ہوں کئے ہیں۔انہیں لوگوں کی راہ ہم مانگتے ہیں کہ اس کی آگاہی عطا کرو۔یہ تو تم جانتے ہو کہ زمین گول ہے۔اور یہ بھی جانتے ہو کہ ہر جگہ ہر وقت کوئی نہ کوئی نماز کا وقت ضرور رہتا ہے۔کہیں عصر، کہیں مغرب، کہیں ظہر، کہیں عشا اور کہیں فجر۔غرض ایک جگہ ایک نماز کا وقت، دوسری جگہ دوسری نمازوں کے اوقات ہوں گے۔پس گویا ہر وقت یہ آیت پڑھی جاتی ہے۔اس غوروفکر کے بعد میں نے اپنی خوشی کی کئی باتیں اس سے نکال لیں۔اول۔تمام مذاہب میں جن سے میری مراد تاریخی مذہب ہیں یا صاف الفاظ میں یوں کہو جو کسی نبی کے ماتحت سمجھے جاتے ہیں۔دعا ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اس کا انکار کیا جاوے تو ساری نبوتیں باطل ہوجاتی ہیں کیونکہ نبوتوں کی بنیادہی دعا پر ہے۔میں آپ بھی دعائوں کا بہت ہی قائل اور معتقد ہوں اور میں نے دعائوں کی قبولیت کے ایسے نظارے دیکھے ہیں کہ کوئی فلسفہ اور سائنس میرے سامنے دعا کو باطل نہیں کرسکتا۔دوم۔اس دعا نے دنیا کے تمام راستبازوں اور برگزیدہ لوگوں کی تعظیم و اطاعت کی تعلیم ہر مسلمان کو دی ہے۔اب جبکہ رات اور دن کا کوئی وقت نہیں گزرتا جبکہ یہ دعا نہیں مانگی جاتی کہ منعم علیہ کی راہ دکھا دو اور تمام مذاہب دعا کے قائل ہیں اور یہ دعا اس قدر مانگی گئی ہے جس کی حد نہیں کم از کم پانچ نمازوں میں جو ہر وقت دنیا میں پڑھی جاتی ہیں۔مسلمان یہ دعا مانگتے رہتے ہیں