خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 481 of 660

خطابات نور — Page 481

احسان عام کی اسلامی تعلیم {تقریر فرمودہ۱۶؍جون۱۹۱۲ء بوقت ۶ بجے شام} ۱۶؍جون ۱۹۱۲ء کو چھ بجے شام کے حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک پبلک تقریر فرمائی جس کے لئے ایک اعلان شائع کیا گیا تھا۔وقت مقررہ پر آپ نے احمدیہ بلڈنگز کی مسجد میں کھڑے ہوکر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی چونکہ وقت بہت تنگ تھا اس لئے ۱۷ کی صبح کو ایک تیسری تقریر اور آپ نے کی۔یہ تقریر بھی حسب معمول حضرت خلیفۃ المسیح کی اصلاح کے بعد شائع کی جاتی ہے۔( ایڈیٹر)   (الفاتحۃ :۲تا۷) یہ چند آیات جو میں نے پڑھی ہیں۔یہ قرآن کریم کے ابتداء میں لکھی ہیں۔غالباً ہر ایک مسلمان یا یوں کہو کہ ہر ایک مسلمان جو کبھی نماز پڑھتا ہو ان کو یاد رکھتا ہے۔یہ آیتیں تمام مذاہب اسلام میں جس قدر بھی وہ ہوں اور تم جانتے ہو کہ کم از کم میںمذاہب اسلام کو جانتا ہوں وہ شیعہ ہوں یا ناصبی ہوں، سنی ہوں یا صوفی ہوں۔مذاہب اربعہ کے پابند ہوں یا گروہ اہل حدیث سے ہوں۔سب کے سب عملی طور پر نماز میں اس سورۃ کو پڑھتے ہیں۔بعض اس کے پڑھنے میں لفظ فرض کا کہہ لیتے ہیں اور بعض واجب کا۔پھر بعض اَئمہ فرض اور واجب میں فرق نہیں سمجھتے اور بعض کچھ فرق نکال کر اعتقادی طور پر فرق کرلیتے ہیں نہ عملی طور پر۔اسلام کا احسان عام: اس سورۃ میں کی دعا واقعہ ہوئی ہے اور اس سورۃ پر غوراور تدبر کرنے سے مجھے ایک اور ایک دو کی طرح (اور اس سے بھی زیادہ کیونکہ کہتے ہیں آنکھ کے ایک مرض میں ایک کے دو نظر آتے ہیں) کامل یقین ہے کہ اسی آیت نے دنیا پر احسان عام کرنا چاہا ہے۔