خطابات نور — Page 469
بھی کسی اپنے ملنے والے غیر مذہب کے آدمی کو کہا کہ قرآن پڑھا کرو۔وہ بولا ہم تو یہ کام ملانوں ہی کا سمجھتے رہے ہیں۔اب مسیحیوں نے اپنے مذہب کی اشاعت کا جدید طریق اختیار کیا ہے۔سڑکوں پر دائرہ اور تکیہ بناتے ہیں تاکہ وہاں آنے جانے والوں کو تبلیغ کریں۔سوچو کہ وہ کس قدر کوششیں قرآن کریم کے برخلاف کر رہے ہیں۔مگر مسلمانوں کی حالت اس سے بالکل جدا ہے۔انہیں خبر بھی نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔پس یاد رکھو کہ اگر پوری طاقت وہمت اور یکجہتی سے اس حبل اللّٰہ کو مضبوط نہ پکڑو گے تو مخالفین اسلام اس رسہ کو لے جائیں گے (خدانہ کرے ایسا ہو) اس رسہ کو مضبوط پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ قرآن مجید تمہارا دستور العمل ہو۔تمہاری زندگی اس کی ہدایتوں کی ماتحت ہو۔تمہارے ہر ایک کام، ہرحرکت وسکون میں جو چیز تم پر حکمران ہو وہ خدا تعالیٰ کی یہ پاک کتاب ہو جو شفا اور نور ہے۔یاد رکھو! دنیا ایک مدرسہ ہے اس مدرسہ کی رسہ کشی میں وہی کامیاب ہو گا جوحبل اللّٰہ کو ہاتھ سے نہ دے گا۔پس اس وقت ضرورت ہے کہ تم میں عملی زندگی پیدا ہو اور تفرقہ نہ ہو۔میں پھر تمہیں اللہ کا حکم سناتا ہوں۔(اٰل عمران :۱۰۴)۔مسلمانوں کی موجودہ حالت: افسوس ہے کہ مسلمانوں میں اب ان امور پر سوچنے کی بھی فرصت نہیں ان کے مشاغل ہی اور ہیں۔کہیں وہ پولیٹیکل امور میں الجھے ہوئے ہیں اور کہیں انجمنوں کے فکر ہیں۔کوئی کہتا ہے قوم اس وقت سدھر جاوے گی جب وہ دوسری قوموں کی طرح ایجیٹیشن کرے گی اور اپنے حقوق کے لئے اپنی طاقت پر بھروسہ کرے گی۔دوسرا کہتا ہے نہیں قوم کو جو نقصان پہنچا ہے وہ اس لئے پہنچا ہے کہ وہ سود نہیں لیتی مسلمانوں کا لاکھوں نہیں کروڑوں روپیہ رائیگاں جاتا ہے۔ایک کہتا ہے کہ اخبار میں یہ آرٹیکل نہ لکھا تو کچھ نہیں۔دوسرا کہتا ہے کہ یہ رسالہ نہ ہوا تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔قوم میں اگر کوئی خوبی پیدا ہو سکتی ہے تو اسی راہ سے ہو گی۔غرض جو جس کے جی میں آتا ہے کہہ دیتا ہے۔میں تمہیں کہتا ہوں یہ نجات کی راہیں نہیں۔ان باتوں سے کچھ نہ بنے گا ایک ہی راہ ہے کہ