خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 457 of 660

خطابات نور — Page 457

تمدن پر لیکچر دیتے ہیں کس طرح شہرت ہو اور کبھی تمدن کی ان شاخوں پر بحث ہوتی ہے کہ شہرت کے بعد شہر میں کیونکر گزارہ کریں۔اور کبھی وہ دولت‘ تجارت اور ِحرفوں کے متعلق بولتے ہیں اور کبھی مادی ترقی اور اقتصادی امور پر بولتے ہیں اور کبھی حفظان صحت پر لیکچر دیتے ہیں۔کبھی حکام سے تعلقات اور اپنی ملکی اور مقامی ضروریات پر بولتے ہیں۔کبھی ہمسایہ اور دوسری قوموں پر بڑھنے کی تجاویز کے متعلق بولتے ہیں۔غرض مختلف قسم کے لیکچرار ہوتے ہیں اور ان کی اغراض اور موضوع مضامین الگ ہوتے ہیں۔پھر اسی لحاظ سے مختلف قسم کے اخبارات ہوتے ہیں۔ان اخبارات نے اپنے اپنے مقاصد کے لحاظ سے کچھ فرض، سنت ،واجب بنائے ہوئے ہوتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی شریعت کے سنن اور فرائض اور واجبات نہیں ہوتے بلکہ ان کے اپنے ایجاد کردہ ہوتے ہیں۔مگر میرا بیان ان سب سے علیحدہ ہے۔میرا دماغ خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ میں مختلف قسم کے مضامین پر بول سکتا ہوں اور خوب بول سکتا ہوں۔میں اپنی جگہ امور سیاست پر بھی غور کرتا ہوں اور خوب غور کرتا ہوں اور خیالی لذت قرآن کریم کی سیاسی آیات سے اٹھا لیتا ہوں۔کبھی تجارت ،حرفت اور حفظان صحت پر غور کرتا ہوں اور قرآن کریم کی ان آیات پر غور کرتے کرتے دور چلا جاتا ہوں جو ان اصولوں کو اپنے اندر رکھتی ہیں۔میں کبھی فنون جنگ پر بھی سوچتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت نے ایسی گروہ تیار کر دی تھی کہ جب لڑائی کو جاتے تھے تو ساٹھ ہزار کے مقابلہ میں تین ہزارکافی ہوتے تھے۔وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظام تھے۔اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ: ایک جنگ میں خالد بن ولید اور ضرار تھے۔ضرار دشمنوں کے ہاتھوں میں قید ہو گئے۔خالد کو ان کے قید ہونے کا سخت رنج ہوا۔انہوں نے کہا کہ تیس آدمی ساٹھ ہزار کے لئے کافی ہیں اور عبیدہ بن جراح نے کہا کہ ساٹھ آدمی لے جائو۔حالانکہ مخالفوں کا کمانڈر انچیف ۵ لاکھ لے کر مقابلہ پر تھا۔خالد بن ولید کو ضرار کی قید کی خبر سن کر نیند نہ آئی۔حضرت عبیدہ سے کہا کہ کوئی ایسی بات ہو کہ ضرار کو چھڑا لائوں۔