خطابات نور — Page 456
خلافت، اس کا حقدار اور امر خلافت میں روک {تقریر فرمودہ ۱۶؍جون ۱۹۱۲ء بمقام مسجد احمدیہ بلڈنگس لاہوربوقت صبح} (حضرت خلیفۃ المسیح ؓ کی اصلاح و تصدیق سے شائع ہوئی۔ایڈیٹر) اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ (اٰل عمران : ۱۰۳ تا ۱۰۶) لیکچراروں کی تقسیم اور اپنا منصب: مجھے باتیں بنانی بھی آتی ہیں اوربولنا بھی آتا ہے اور مختلف مضامین پر بول سکتا ہوں مگر مجھے بڑی سہولت ہے کہ مجھے ایک ہی مضمون پر بولنا پڑتا ہے۔دنیا میں لوگوں کو بڑے بڑے مضامین کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں بہت سی ضرورتیں بولنے کی پیش آتی ہیں۔ایک آدمی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا دماغ ایسا بنایا ہوتا ہے کہ وہ سیاست پر گفتگو کرتا ہے اور تمام دنیا کی سلطنتوں کے سیاسی اصولوں سے واقفیت رکھ کر بولتا ہے اور تمدن، اپنی حفاظت‘ خودداری اور دوسروں کو کمزور کرنے کے اصولوں پر بولتا ہے۔ہماری سلطنت ہندوستان میں تو رہی نہیں۔باہر اگر کچھ ہے تو اس کے لئے بھی آوازیں آرہی ہیں کہ یہ بھی دے دو۔پس نہ ہمارے حکمران اس بات کو پسند کرتے ہیں اور نہ ہماری موجودہ حالت اجازت دیتی ہے کہ سیاسی امور میں ہم دخل دیں اور ان پر بولیں۔بہت لوگ