خطابات نور — Page 450
عمارتوں کی تعمیر کی غرض و غایت {تقریر فرمودہ ۱۵؍ جون۱۹۱۲ء ۶ بجے شام بتقریب سنگِ بنیادمکان محترم شیخ رحمت اللہ صاحب بمقام لاہور} (بعد اصلاح حضرت خلیفۃ المسیح ؓ شائع کی جاتی ہے۔ایڈیٹر) اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ (التوبۃ:۱۰۹) تاریخ عالم کا ابتدا معلوم نہیں : عمارتیں دنیا میں بہت بن رہی ہیں ، بنتی رہی ہیں اور بنتی رہیں گی اور اس قدر عرصہ سے بنتی آئی ہیں کہ میرے نزدیک اس پر زمانہ دراز گزر گیا ہے۔اتنا بڑا زمانہ کہ اگر ارب ، کھرب، سنکھ مہاں سنکھ بھی کوئی تجویز کرے اور اس کو سنکھ مہاں سنکھ کے غیر نہایت عدد سے ضرب دے پھر بھی وہ اس وقت تو احمق و نادان ہے جو تجویز کرے کہ دنیا کب سے آباد ہے۔اللہ تعالیٰ ہی اس حقیقت اور زمانہ کو سمجھتا ہے۔تورات میں بھی تاریخ لکھی ہے۔ویدوں سے بھی تاریخ کا پتا دیا جاتا ہے۔زندوستا اور گاتھ سے بھی زمانہ کی تاریخ ظاہر ہوتی ہے۔دساتیر میں تاریخ عالم ہے مگر قربان جائوں اس کامل کتاب قرآن کریم کے جس نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی حد بندی نہیں کی۔قرآن مجید نے نہیں بتایا کہ دنیا کب سے ہے اور یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ربّ، رحمن، رحیم، داتا ، بخشنہار ہے۔اس کی کوئی حد مقرر نہیں کہ اس قدر عرصہ سے ہے۔پس قرآن کریم کو پڑھ کر اور سمجھ کر میرا ایمان یہی ہے کہ معلوم نہیں کہ دنیا کب سے قائم ہوئی ہے؟ میں اس کتاب پر دل و جان سے قربان ہوں جس نے ہر امر میں ایسی راہ بتائی ہے جو نہایت محفوظ اور مامون ہے اور اس پر کوئی زد اور اعتراض ہو نہیں سکتا۔شیخ صاحب سے حضرت اقدسؑ کا وعدہ : پس جب ہمیں قطعاً معلوم نہیں کہ دنیاکب سے ہے تو یہ امر صاف ہے کہ