خطابات نور — Page 436
تم مجھ پر اعتراض کرتے ہو۔اپنا منہ دیکھ لو مجھے وہ لفظ خوب یاد ہیں کہ ایران میں پارلیمنٹ ہوگئی اور دستوری کا زمانہ ہے انہوں نے اس قسم کے الفاظ بول کر جھوٹ بولا بے ادبی کی۔خدا تعالیٰ کی غیرت نے انہیں دستوری کے نتیجے ایران ہی میں دکھا دیئے۔میں پھر کہتا ہوں وہ اب بھی توبہ کر لیں میں دوستوں کو کہتا ہوں (ھود :۳۰) میرا مولا مجھے سب کچھ دیتا ہے اگر وہ نہ چاہتا تو جب میں گھوڑے سے گرا تھا تو اس صدمہ سے مر جاتا مگر اسی نے میری حفاظت کی اور جہاں پچھلے سال مجھے بولنے کی طاقت نہ تھی آج خدا کے فضل سے میں اس سے بھی بلند آوازسے بول سکتا ہوں (الحمدللّٰہ علٰی ذٰلک۔ایڈیٹر) پس ایسے خیالات کو چھوڑ دو۔پھر جو اخباروں میں بعض مضامین دیتے ہو اللہ تعالیٰ کے آگے ڈرو ورنہ تم پر الزام قائم ہو گا۔خوب یاد رکھو اور سن رکھو میری امانت دیانت کی حفاظت تم سے نہیں ہو سکتی اور کوئی بھی نہیں کر سکتا۔کل ایک بیوی نے مجھے سو روپیہ دیا اس کے بیٹے نے ایک مصیبت سے مخلصی پائی اس نے نذر مانی تھی۔مجھے وہ روپیہ دیا۔کیا کوئی جان سکتا تھا میری بیوی میرے پاس بیٹھی تھی میں نے سمجھا کہ شاید اس کا دل للچایا ہو۔میں نے اس دینے والی سے پوچھا کہ کہاں خرچ کریں وہ بولی کہ کسی اچھی جگہ خرچ کرو۔میں نے وہ جمع کر کے گھر میں نہیں رکھے۔میرے پاس تین قسم کی رقوم آتی ہیں کچھ کپڑے آتے ہیں یتامیٰ اور مساکین کے لئے اور ایسا ہی روپیہ بھی آتا ہے کوئی روپیہ دیتا ہے کہ جہاں آپ چاہیں خرچ کر دیں۔ایک کہتا ہے جہاں میرے مردے کو ثواب پہنچے وہاں خرچ کر دو اور کچھ خیرات بھی آتی ہے۔بعض لوگ مخصوص کر دیتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کے خاص منشا کے ماتحت ہوتا ہے کہ یہ تمہاری ذات کے لئے ہے ان تمام اموال میں سے یتامیٰ کے اموال کو تو میں (الانعام :۱۵۳) پر عمل کرنے کے لئے محمد علی صاحب کے حوالہ کر دیتا ہوں اور ایسا ہی ان کے کپڑے بھی۔جو اموال میرے پاس آتے ہیں میرے حفاظت کرنے والوں کو تو میرے گوہ کی بھی خبر نہیں تو اموال کی کیا خبر ہو؟ (یہ سخت لفظ میں نے ایک خاص وجہ سے بولا ہے) پھر جو کپڑے ہوتے ہیں بعض وقت ان میں قیمتی کپڑے ہوتے ہیں میں نے ایک دفعہ اپنی بیوی کو کہا کہ ان کو بیچ کر اوسط درجہ کے کپڑے بنا دیا کرو تا کہ وہ زیادہ کے کام آسکیں۔اس نے کہا کہ اگر میں خود لینا چاہوں تو میں نے اسے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔اگر کوئی اور بیوی ہو جو ہماری رشتہ دار نہ ہو وہ