خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 435 of 660

خطابات نور — Page 435

بھیجتے ہو تو اسے اپنے فہم کے موافق خدا کی رضا کے لئے خرچ کرتا ہوں پھر وہ کون سی بات ہو سکتی تھی کہ میں پیر بننے کی خواہش کرتا۔اب خدا تعالیٰ نے جو چاہا کیا اس میں نہ تمہارا کچھ بس چلتا ہے اور نہ کسی اور کا۔اس لئے تم ادب سیکھو کیونکہ یہی تمہارے لئے بابرکت راہ ہے تم اب اس حبل اللہ کو مضبوط پکڑ لو یہ بھی خدا ہی کی رسن ہے جس نے تمہارے متفرق اجزا کو اکٹھا کر دیا ہے۔پس اسے مضبوط پکڑے رکھو۔تم خوب یاد رکھو کہ معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں۔تم مجھ میں عیب دیکھو آگاہ کر دو مگر ادب کو ہاتھ سے نہ دو۔خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں یہ خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے۔اللہ تعالیٰ نے چار خلیفے بنائے ہیں آدمؑ کو، دائود کو اور ایک وہ خلیفہ ہوتا ہے جو (النور :۵۶) میں موجود ہے اور تم سب کو بھی خلیفہ بنایا۔پس مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔اس لئے تم میں سے کوئی مجھے معزول کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہو گا تو وہ مجھے موت دے دے گا (اللّٰھم ایّد الاسلام والمسلمین ببقائہٖ وطول حیاتہ۔ایڈیٹر) تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کرو تم معزول کی طاقت نہیں رکھتے میں تم میں سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں۔جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا مجھے یہ لفظ بھی دکھ دیتا ہے کہ جو کسی نے کہا کہ پارلیمنٹوںکا زمانہ ہے دستوری حکومت ہے ایران اور پرتگال میں بھی دستوری ہو گئی ہے۔ترکی میں پارلیمنٹ مل گیا۔میں کہتا ہوں وہ بھی توبہ کر لے جو اس سلسلہ کو پارلیمنٹ اور دستوری سمجھتا ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ ایران کو پارلیمنٹ نے کیا سکھ دیا اور دوسروں کو کیا فائدہ پہنچایا ہے۔ترکوں کو پارلیمنٹ کے بعد کیا نیند آتی ہے؟ ایرانیوں نے کیا فائدہ اٹھایا۔محمد علی شاہ کے سامنے کتنوں کو غارت کرایا اور اب پچھلوں کو الٹی میٹم آتے ہیں۔ادھر انجمن ترقی واتحاد جو دکھ اٹھا رہی ہے اس کا اندازہ ان خبروں سے کر لو جو طرابلس سے آرہی ہیں۔تم دستوری کو کیا سمجھتے ہو خدا ہی کے فضل سے اور اسی کے رسن کو مضبوط پکڑے رہنے سے کچھ بنتا ہے۔اس لئے میں پھر کہتا ہوں (اٰل عمران:۱۰۴)۔میں تمہیں پھر یاد دلاتا ہوں کہ قرآن مجید میں صاف طور پر لکھا ہے کہ اللہ ہی خلیفے بنایا کرتا ہے۔یاد رکھو آدم کو خلیفہ بنایا تو کہا (البقرۃ :۳۱) فرشتوں نے اس پر اعتراض کر کے کیا خمیازہ اٹھایا۔تم قرآن میں پڑھو جب فرشتوں کی یہ حالت ہے اور انہیںبھی (البقرۃ :۳۳) کہنا پڑا تو