خطابات نور — Page 431
ایک کتاب کے لکھنے والے میں ہونی چاہئے محض خیالات سے کچھ نہیں بنتا۔جب تک سچے علوم سے واقفیت نہ ہو اور پھر ایسی تصنیفیں ایک تفرقہ کا موجب ہو جاتی ہیں۔تم کو اگر مشکلات پڑتی ہیں تو خدا تعالیٰ سے توفیق مانگو اور دعائوں سے کام لو۔ایک نے کہا کہ ہم سے امر بالمعروف میں اطاعت کی بیعت لی ہے۔میں کہتا ہوں یہ بیعت میری ایجاد تو نہیں قرآن مجید بھی تو (اٰل عمران :۱۱۱) فرماتا ہے امر بالمعروف اسی قرآن مجید کے ارشاد کے نیچے ہے۔پس میں ان نوجوانوں کو یہی کہوں گا کہ لڑانے کا فکر نہ کرو ہماری بد دعا نہ لو دعائیں لو۔کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالو جس سے جھگڑا پیدا ہو اور تفرقہ بڑھے۔یاد رکھو میں پھر کہتا ہوں باہم جھگڑا کرو گے تو قرآن مجید کے اس فتوے کے نیچے آجائو گے(الانفال :۴۷) تم پھسل جائو گے اور تمہاری ہوا نکل جائے گی اس لئے توبہ کر لو اس میں تمہارا بھلا ہے۔نکمے جھگڑے: بعض لوگ نکمے جھگڑے کرتے ہیں۔ایک نے آکر سنایا کہ سیالکوٹ کی جماعت نے کہا کہ نور دین نے اتنے مسئلہ اُڑا دیئے ؟ ان میں سے ایک یہ بھی کہ نور دین جہراً بسم اللّٰہ نماز میں نہیں پڑھتا۔ایسا ہی کل ایک دوست آیا کہ جہراً بسم اللّٰہ پڑھی تو پشاور کے قاضی نے کہا کہ احمدیوں کی نمازیں تو ٹھیک ہوتی ہیں مگر جہراً بسم اللّٰہ درست نہیں۔یہ نکمّے جھگڑے ہیں۔سیالکوٹ کا اگر کوئی بیٹھا ہے تو وہ اب توبہ کر ے اور استغفار کرے۔یہ مسئلے جھگڑے کے نہیں ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین بسم اللّٰہجہراً اور خفائً پڑھتے تھے۔میری اپنی تحقیق میں جہراً پڑھنے والے تھوڑے ہیں خفائً پڑھنے والے بہت ہیں۔میں عبدالکریم مرحوم سے خدا کے لئے محبت رکھتا تھااور اس کے پیچھے نہایت ذوق سے نماز پڑھتا تھا اور میں اس کے جہر پر بھی فدا تھا اور میں نے حضرت صاحب کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے تم میں سے بھی بعض نے پڑھی ہو گی۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت صاحب جہراً بسم اللّٰہ پڑھا کرتے تھے؟ پھر میں نے حضرت صاحب کے سامنے بھی نمازیں پڑھائی ہیں اور بہت پڑھائی ہیں اور تم میں سے بھی بہتوں نے پڑھائی ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں اس وقت بھی اسی طرح نماز نہ پڑھتا تھا؟ اب ان کے بعد بسم اللّٰہ کے جہراً پڑھنے یا نہ پڑھنے پر بحث کرتے ہو اور پھر اس بحث میں بڑھتے بڑھتے ایسے لفظ