خطابات نور — Page 430
تم پر قابو پا جائیں گے ہاں اگر تنازعہ پیدا ہو تو اس وقت تمہیں صبر سے کام لینا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے یہی ارشاد کیا ہے کیونکہ جب جھگڑا پیدا ہوتا ہے تو ایک طرف غضب آتا ہے اگر دوسری طرف بھی اس غضب سے کام لیا جاوے تو نتیجہ اس کے سوا نہیں ہو گا کہ پھر اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آکر ہلاک ہو جائو گے۔پس ایسے موقع کے لئے محض اپنے کرم اور غریب نوازی سے یہ تعلیم دی کہ صبر کرو اگر صبر سے کام لو گے تو نتیجہ کیا ہو گا (البقرۃ :۱۵۴) تنازعہ کے باطل کرنے کا یہی طریق ہے کہ صبر سے کام لو۔انسان جب صبر کرتا ہے تو ایک نور اس کے قلب پر اترتا ہے جس سے اس کو سکینت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور وہ جوش کی آگ جو اس کے اندر بھڑکنے والی تھی بالکل ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔یہ ظہور ہوتا ہے کا خد اتعالیٰ کی معیت اس طرح پر اپنا کام کرتی ہے اور پھر جس کے ساتھ خدا ہو اس کی کامیابی اور فتح میں کیا کلام ’’خدا داری چہ غم داری‘‘ انسان خدا کی محبت اگر چاہتا ہے تو اس کے لئے لازمی شرط یہی ہے کہ متقی ہو اور پھر صبر کرے مگر تم دیکھو کہ تم میں ادنیٰ ادنیٰ باتوں میں تنازعہ ہو جاتا ہے۔یہاں ہمارا بازار ہے کتنی دوکانیں ہیں ان میں کتنا سودا ہے میں تو جانتا ہوںاس کا نام بازار رکھنا بھی شرم ہے۔بہرحال جو کچھ بھی ہے، ہے۔ان گنتی کے دوکانداروں میں ہر ایک یہی سمجھتا ہے کہ جو سودا اس نے رکھا ہے کوئی دوسرا نہ رکھے اور اسے ہی سارا نفع ہو۔پھر جگہ پر جھگڑا ہوتا ہے ایک کہتا ہے مجھے یہ جگہ ملے دوسرا کہتا ہے مجھے دو یہ۔میں حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ کیا کرتے ہیں کیاان کی غرض اتنی ہی ہے۔وہ مجھ سے پوچھتے تو میں انہیں بتاتا کہ اگر تم نفع چاہتے ہو تو خدا پر بھروسہ کرو کسی دوکان یا کسی سودے کو اپنا خدا مت بنائو۔ان پر بھروسہ کرو گے تو ہلاک ہو جائو گے۔نہ دنیا کا فائدہ ہو گا اور دین بھی ہاتھ سے جائے گا۔نفع دینا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور یہ اس کے فضل سے ملتا ہے۔ہاں تدبیر کرو مگر اپنی تدبیروں کو خدا نہ سمجھ لو اور ان پر بھروسہ نہ کرو تمہاری تجارتیں تمہارے لئے موجب برکت دین ہوں۔وہ دنیا کسی کام کی نہیں جو دین کو بگاڑ دے۔کیا دنیا میں پہلے سے ایسے تاجر موجود نہیں جن کو دین سے واسطہ نہیں۔تم کوشش کرو اور خدا تعالیٰ سے توفیق چاہو کہ تمہاری تجارتیں بھی تمہارے لئے دین ہو جائیں۔پھر بعض نوجوان ہیں وہ جھٹ تصنیف کر دیتے ہیں حالانکہ ان میں وہ فہم وہ فراست نہیں ہوتی جو