خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 427 of 660

خطابات نور — Page 427

نوٹ کر لئے اور پھر حقیقی جوابات کی طرف متوجہ ہوا تو بعض اعتراضوں کے جواب سمجھ میں نہ آئے۔میں نے مرزا صاحب سے عرض کیا کہ بعض اعتراضوں کے جواب حقیقی نہیں ہو سکتے۔یا تو ان اعتراضات کا ذکر ہی نہ کریں یا الزامی جواب دے کر خاموش ہو جائیں۔میرا ایک دوست تھااللہم اغفرہ وارحمہ مولوی عبد الکریم نام‘ انھوں نے کہا کہ الزامی جواب پسند نہیں۔میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا۔آپ کی عادت تھی کہ ہنستے ہنستے کپڑا منہ پر رکھ لیتے تھے۔یہ سن کر فرمایا کہ بڑی بے انصافی کی بات ہے کہ جس بات کو آپ کا قلب نہیں مانتا دشمن کو وہ آپ کیونکر منوائیں گے۔اس بات کو سن کر میرااعتقاد آپ کی نسبت بہت بڑھ گیا کہ جب تک اس کا قلب مطمئن نہیں ہوتا یہ بات کرتا ہی نہیں اور مجھے بزور کہا کہ یہ بے انصافی ہے کہ جس بات کو خود نہ سمجھو دوسروں کو منوائو۔میں نے سمجھا کہ اس کا ایمان بڑا عجیب ہے اور یہی وجہ ہے جو ایک بات کو بیسیوں مرتبہ بیان کرتا ہے۔میں یہ سن کر خاموش ہو گیا اور دل میں آیا کہ پھر کیا کریں۔جب اٹھنے کے قریب ہوئے تو فرمایا کہ جو مقامات حل نہیں ہوتے ان کو خوشخط لکھ کر سامنے لگا لو۔جب آمد رفت کے وقت ان پر نظر پڑے تو دعا کرو چند روز کے بعد وہ انشاء اللہ حل ہو جائیں گے۔میں ان ایام میں صوفیت سیکھتا تھا۔میں نے سوچا کہ خوشخط لکھنا اور پھر سامنے لٹکانا تو مشکل کام ہے اس لئے دل ہی میں لٹکادویہ میرا اپنا ذوق تھا۔اب بھی یہ گُر یا د رکھنے کے قابل ہے جو آیت سمجھ میں نہ آوے اس کو خوشخط لکھ کر سامنے لٹکا دواور دعا کرتے رہو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حل ہو جائے گی۔غرض میں نے ان سوالات میں سے بعض کو اپنے دل پر لٹکا دیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں حل کر دیا۔انہیں سوالوں میں سے والفجراور والنجم کی تفسیر ہے جو میں نے لکھی ہے۔اگر کوئی چاہے تو وہ سوال موجود ہیں۔میں اس کے حوالہ کر سکتا ہوں غرض تم کو کوئی آیت سمجھ میں نہ آوے تو اس طریق سے کام لو اور جناب الہٰی میں گر پڑو کہ تیری کتاب ہے میری سمجھ میںیہ آیت نہیں آتی۔دعائو ں میں لگے رہواور منتظر رہو کہ کب انکشاف ہو جاتا ہے۔کیا میں نے اس موقع پر اپنے خیال کو ترجیح دی ہے یا کسی تفسیر کی سپارش کی ہے بلکہ یہ چوتھا مرتبہ بتایا ہے کہ قلب مطہر لے کر جناب الہٰی میںگر جائے، یہ اصول ہیں فہم قرآن کریم کے لئے۔بات کچھ اور شروع کی تھی اور ذوق میں کہاں تک چلی گئی۔۱؎