خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 426 of 660

خطابات نور — Page 426

معنی کرتے۔پس ہمارے مولیٰ نے کامل رحم فضل سے نماز پڑھوا کردکھادی اور ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابی نے دیکھ لی حتی کہ یہود و نصارٰی ومجوس نے بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لی اب کسی اور معنی کی ضرورت نہیں۔نہ تقدیم تاخیر۔نہ کنایہ نہ حذف و محذوف کی۔گجرات کے ضلع میں دتہ شاہی ایک قوم ہے وہ کام (شہوت)کرو دہ(غضب ) لوبھ (حرص) موہ(بے جامحبت)ہنکار (غرور)کو چھوڑنے کا نام ہی نماز رکھتے ہیں۔یہاں ایک گلوّ سقّہ ہے جب وہ جماعت میں نہ تھا تو کہتا تھا کہ یہ خود منارہ ہیں، سر گنبد ہے اور آپ نماز ہیں۔غرض اس قسم کی بیہودہ تو جیہیں پیدا کر لی جاتی ہیں۔مسلمانوں پر یہ دکھ اور مصیبت کا وقت ہے ایسے وقت میں یاد رکھو کہ قرآن کریم کی تفسیر قرآن شریف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملدرآمد سے کرو۔اور پھر تمام امت میں مشترکہ رنگ کو دیکھ لو۔پھر احادیث صحیحہ کو پڑھو۔ایک بڑی گندی قوم گزری ہے جو احادیث کا انکار کرتی ہے۔ایک نے یہ گندا لفظ َکل کہا اوربڑی جرأت سے کہا کہ رواتِ احادیث شیاطین ہیں وہ نہیں مرے گا جب تک خود شیطان نہ بن لے۔وہ لوگ بڑے ہی محروم ہیں جو اس علم حدیث سے محروم ہیں میں بچپن سے ۷۵۔۷۶سال کی عمرتک پہنچا ہوں اور میرا یہ تجربہ ہے کہ علم حدیث کے بغیر دین آتا ہی نہیں۔تم ہی بتائو جس نے علم حدیث پڑھا ہے اس کی گواہی حدیث کے متعلق ماننی چاہیے یااس کی جس نے یہ علم پڑھا ہی نہیں پھر ایک وہ طریقہ قرآن کریم کے فہم کا ہے جو میرے ہادی نے مجھے سمجھایا ہے۔میں نے ایک بار حضرت مرزا صاحب کے حضور عرض کیا کہ آپ کے طریق میں مجاہدات کیاہیں فرمایا اگر شوق ہے فصل الخطاب لکھنے کی وجہ ان مجاہدات کاجو ہمارے طریق میں ہیں تو ایک کتاب عیسائی مذہب کے ردّ میں لکھو۔میں نے جب اس کتاب کے لکھنے کا ارادہ کر لیا تو ایکمسیحی کو مقرر کیا کہ وہ جو اعتراض قرآن شریف پر رکھتا ہے لکھے۔اس نے ایک ہزار کے قریب اعتراض لکھ کر بھیج دیا۔میں نے اس کے اعتراضوں کو پڑھ کر ساری بائیبل کو کئی مرتبہ پڑھا اور نوٹ کرتا گیا۔(وہ بائیبل اب کسی نے چرا لی ہے )میں نے ُکل اعتراضات کے الزامی جواب