خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 399 of 660

خطابات نور — Page 399

ہوا۔تین آدمی یہاں آئے ایک کو جگہ ملی وہ بیٹھ گیا۔فَاٰوَاہ اللّٰہ نے اسے قرب میں جگہ دی۔دوسرے کو حیا آئی آگے نہ بڑھا۔جانے سے مضائقہ کیا۔اللہ بھی اس کی پکڑ سے حیا کرے گا۔تیسرے نے منہ پھیرا خدا بھی اس سے منہ پھیرے گا۔شاید کوئی قلب ایسا ہو جس کی وجہ سے یہ تحریک ہوئی۔حضرت حق سبحانہ نے انسان کو، معدوم کو موجود فرمایا اور فرمایا (الدّھر :۳)۔اس پر انعام فرماتے رہے اور انعام کرتے کرتے اس قدر بڑھایا کہ سمیع بصیر بنا دیا۔ایک عام طور پر سمیع و بصیر ہیں ایک وہ جو خدا کی آواز سنتے ہیں۔جناب الٰہی کے حقائق دیکھتے ہیں۔جس طرح انسان عدم میں بے طاقت تھا اور فضل الٰہی سے باہر آیا اسی طرح ہر وقت اس کو ایک جدید ترقی عطا ہوتی ہے۔جناب الٰہی کا فضل نہ ہو تو ترقی عطا نہ ہو۔کل کا کھایا، کل کا پیا، کل کا مکان، کل کا لباس آج ہمارے کام میں نہیں آیا۔کل کی خوشی ، کل کی خوشحالی، کل کے جو تعلقات کسی کے ساتھ تھے وہ آج کام کے نہیں۔ہر وقت اللہ کی ہی نعمتوں کا محتاج ہے۔اس لئے اس کا نام  ہے۔میں آواز دیتا ہوں ایک حرف کے بعد دوسرا نکلتا ہے۔اگر ذرا اعانت الٰہی نہ پہنچے تو وہ آواز کہاں سے آسکتی ہے۔غرض ہر آن میں انسان جناب الٰہی کے فضلوں کا محتاج ہے۔جتنے کمالات کسی کو نصیب ہوئے ہیں۔انبیاء ہوں اولیاء ہوں۔سب کا سب کارخانہ اس کے فضلوں کا ہر آن محتاج ہے۔اس کے فضل کے بڑے بڑے عجائبات ہیں۔لا الٰہ الا اللّٰہ کے یہ معنے ہیں کہ ہر آن میں تم میرے محتاج ہو۔اس کا فضل ہی ہوتا ہے تو کام بنتا ہے۔اس لئے انسان عبد بنا ہے اور جناب الٰہی معبود بنے ہیں۔عبودیت: عبودیت کے واسطے تین چیزوں کی بڑی ضرورت ہے۔تب جاکر عبد، عبد بنتا ہے۔جناب الٰہی سے اعلیٰ درجہ کی محبت ہو اور جناب الٰہی کی اعلیٰ درجہ کی تعظیم ہو اور انسان اعلیٰ درجہ کے عجز و انکسار و تذلّل کے مقام پر ہو۔محبت پیدا ہونے کے اسباب میں تعظیم الٰہی کے پیدا ہونے کے اسباب بھی ہیں۔تذلّل و انکسار کے اسباب بھی ہیں۔لا الٰہ الا اللّٰہ میں غور کرنے سے تینوں کا پتاچلتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں محبت جو پیدا ہوتی ہے حسن و احسان سے پیدا ہوتی ہے۔جس قدر حسن