خطابات نور — Page 382
اسلام اور دیگر مذاہب (تقریر فرمودہ ۳۱؍جولائی ۱۹۱۰ء بوقت صبح بمقام میدان احمدیہ بلڈنگس ) وَقَـا لَ اللّٰـہُ تَعَالـیٰ(آل عمران:۲۰) (آلِ عمران:۸۶)۔تمہید جو اشتہار کل شائع کیا گیا ہے وہ آ پ لوگوں نے پڑھا ہے۔اس میں آج کی تقریر کا مضمون اسلام اور دیگر مذاہب بتایا گیا ہے میں اس کے متعلق بیان کرنے کے واسطے اس وقت آپ صاحبان کے سامنے کھڑا ہوا ہوں تا کہ میں آپ کے سامنے پیش کروں کہ جس امر کا میں پابند ہوں اور جس چیز کو میں نے اپنا مذہب قرار دیا ہے ،وہ کیا ہے؟ اورمیں نے اسے کیوں اختیار کیا ہے اس پر کسی کو اعتراض کا موقع کم ہی ہو گا کیونکہ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ میں اپنے دلی اعتقاد کا اظہار کروں اور یہ بتائوں کہ میں کس طرح اس نتیجہ تک پہنچا۔ہاں اس کے ضمن میں مجھے یہ بھی بتانا پڑے گا کہ دیگر بہت سے مذاہب سے میں نے اپنے آپ کو کیوں اور کس طرح علیحدہ کیا۔کسی مذہب کو اختیار کرنے کے اسباب ہر ایک شخص کے واسطے کسی مذہب کے اختیار کرنے کے لئے بہت سے وجوہ ہوتے ہیں اور مختلف اسباب ایسے ہوتے ہیں جو کسی کو ایک مذہب کا پابند بنا دیتے ہیں ان میں سے ایک سبب یہ ہے کہ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو جس مذہب کے لوگوں میں وہ نشوو نما پاتا ہے ان کے خیالات اور معتقدات رفتہ رفتہ اس کے دل میں گڑتے رہتے ہیں اور وہ بتدریج ان کا اثر اپنے اندر لیتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بڑا ہوتا ہے تو اس مذہب کا پابند کہلاتا ہے یہ بھی ایک سبب کسی مذہب کے اختیار کرنے کا ہے اور مجھے بھی ایسا موقع ملا ہے میں مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا۔میرے ماں باپ سنی حنفی کہلانے والے مسلمان تھے۔اللہ تعالیٰ کی بہت بہت رحمتیں ہوں میری کھلائی