خطابات نور — Page 365
سُکھوں کی جڑ ہے۔میں نے بتایا ہے کہ انسانی اور جسمانی علوم سکھ کا موجب ہوتے ہیں تو جاودانی علوم کیوں جاودانی راحت کا ذریعہ نہ ہوں؟ میں اپنے تجربہ سے اور تمام راستبازوں کے تجربہ کے علم سے کہتا ہوں کہ جاودانی علوم سے متمتع ہونے والا کبھی گھبرائو میں نہیں ہوتا۔اتنا سکون راحت کہنے والے کے سوا کسی اورکو نہیں مل سکتا۔مگر ایسی سچائیوں کاعلم لوگوں کے اتباع سے نہیں مل سکتا۔کتنا ہی مقرر ہو کیا وہ قرآن کریم سے بڑھ سکتا ہے۔کیسا ہی صاحب تجربہ و معلومات ہو پھر بھی وہ خالق فطرت کے برابر کب ہوسکتا ہے اور یہ کتاب لے کر وہ شخص آیا جو کل کمالات انسانی کا جامع تھا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔(النساء :۸۱) یعنی جس نے اللہ کے رسول کی اتباع کی یقینا یقینا وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔یہ بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔اللہ کے پرے اور کیا ہوسکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی اتباع کا نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو قرار دیا تو کیوں یہ آیت ختم نبوت کا نشان ہو؟ مقام محمد صلی اللہ علیہ وسلم: پھر فرمایا (الانفال :۱۸) تو نے نہیںپھینکا جب کہ تو نے پھینکا تھا مگر وہ اللہ ہی نے پھینکا تھا پھر کہا (الفتح :۱۱) جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔اب غور کرو کہ یہ عظیم الشان مقام کسی اور کو ملا ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔ایک عجیب بات اور ہے یہ نرے دعاوی نہیں بلکہ اس کے ساتھ زبردست دلائل اور بھی ہیں۔میں نے وید کو سنا ہے اور احتیاط سے سنا ہے۔اتھرو کے سوا تینوں ویدسنے ہیں او ستاژند اور دساتیر کو پڑھا اور سنا ہے اور گاتھ جو مجوسیوں کی کتاب ہے اسے بھی احتیاط سے سنا ہے۔پھر اس کے بعد میں نے قرآن کریم کو پڑھا ہے۔تمہیں تعجب ہوگا کہ جب بَدْو فطرت سے قرآن سے محبت ہوئی تو شیعوں کی کتابیں بھی پڑھی ہیں۔ایک کتاب چار سو روپیہ کو آتی ہے بحار الانوار نام اور عربی میں ہے۔میرے دل میں ہے کہ اسے بھی منگوا کر پڑھ لوں یعنی اس کی مستند اور معتبر کتابوں کو منگوایا اور پڑھا ہے اور میرے پاس وہ ہیں میرے نزدیک ان کی کتابیں معتبر معلوم ہوتی ہیں۔چاران کی مسلّم ہیں کافی