خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 364 of 660

خطابات نور — Page 364

تو مانتا نہیں مگر اس قرآن نے مجھے بچالیا۔تب میں نے اسے کہا کہ (البقرۃ :۳) اتباع انبیاء سکھ کا موجب ہے: اس کتاب کی شان ہے۔ریب ہلاکت کو بھی کہتے ہیں یعنی اس کتاب میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ انبیاء کی اتباع میں کوئی دکھ ہی نہیں  کے یہ بھی معنے ہیں کہ اس میں ہلاکت کی تعلیم نہیں بلکہ سکھ کی تعلیم ہے۔پھر تمام انبیاء نے اپنے آزمودہ نسخوں کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔صحابہ نے انہیں استعمال کیا۔پھر دیکھ لو کہ کس قدر نفع اٹھایا۔ابراہیم کی اصل نسل تو سب جانتے ہیں مگر نمرود کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔آج کل یہ سوال اٹھا ہے کہ وہ کون تھا۔بعض کہتے ہیں کہ وہ خیالی نام ہے۔مگر وہ تھا ،اور حضرت ابراہیم ؑ کا دشمن تھا اور وہ بے نام و نشان ہوکر مٹ گیا۔لیکن بانام و نشان گویا اب تک زندہ ہے۔یورپ فخر کرتی ہے کہ وہ ابراہیم کی اولاد ہے۔نصرانی عیسائی، یہودی،صیامی، مسلمان سب کے سب اس کے نام پر فخر کرتے ہیں۔زرتشت کی قوم اس کو عظیم الشان انسان سمجھتی ہے۔یہ درجہ اور عزت اسی کی اولاد کو ملی۔(المائدۃ :۲۱) کوئی آسمان کے ستارے یا ریت کے ذرے گنے تو ابراہیم ؑکی اولاد کو گنے جو ابراہیم ؑپر برکت کرے خدا اس پر برکت نازل کرتا ہے جو ابراہیم پر (نعوذباللہ) لعنت کرے تو اللہ تعالیٰ اسے لعنت کی مار مارتا ہے۔یہ انعام کیوں ہوا؟ (البقرۃ :۱۳۲) ایک ہی نکتہ ہے اور وہ کامل اتباع اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے اسے کہا کہ تم ہمارے فرمانبردار ہوجائو تو کہا حضور میں تو فرمانبردار ہوچکا اور آپ کا کیوں فرمانبردار نہ بنوں آپ تو ربّ العالمین ہیں۔ابراہیم فرمانبرداری کی نوعیت اور وجہ نہیں پوچھتا۔حکم کے ساتھ ہی فرمانبرداری کا اقرار کیا ہے۔یہاں تک ہی نہیں بلکہ (البقرۃ :۱۳۳) یعنی اسی فرمانبرداری کی ابراہیم ؑنے اپنے بیٹے کو وصیت کی اور یعقوبؑ نے بھی کہا کہ اے میرے بیٹو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے دین کو برگزیدہ کیا ہے جو فرمانبردار بننے کا دین ہے۔پس تم فرمانبردار ہوکر ہی مرو۔اسی ایک نکتہ پر سارے کمالات کا دارومدار ہے۔غرض فرمانبرداری کامل فرمانبرداری تمام