خطابات نور — Page 353
رزق کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا یقین دلادیا ہے کہ وہ آپ میری تمام ضرورتوں کا ضرورتوں سے پہلے تکفل فرماتا ہے اور ستر برس سے متجاوز عمر یعنی اس وقت تک میں نے اس کا تجربہ کیا ہے اور ہر روز کرتا ہوں کہ وہی مجھے دیتا ہے۔کھانے کو ، پہننے کو،پینے کو اور پھر میرے رہنے کے لئے وہی سامان کرتا ہے۔پھر تم ہی سوچ لو کہ جس خدا نے مجھے اس عمر تک دیا اور اب اور کتنا وقت رہ گیا ہے جس کے لئے میں اس خدا کے ان انعامات کو دیکھ کربھی پھر فریب سے لوگوں کا مال مارنا شروع کروں؟ یہ بات میرے تو وہم میں بھی نہیں آسکتی۔اگر ایسا ہوتو میرے جیسا لعنتی کون ہوگا؟( بَارَکَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَ فِیْ مَالِکَ وَ اَوْلَادِکَ وَاَزْوَاجِکَ)اور اگر تم اپنے مال خرچ کرکے اور تکلیفیں اٹھا کر ایک شریر کے قبضے میں جائو تو تم جیسا احمق کون ہوگا۔مگر نہیں تم کو خدا نے احمق نہیں بنایا بلکہ اس نے تمہیں ان میں داخل کیا ہے جو خدا داد عقل سے کام لیتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ تم نے حق کو پایا ہے۔ہاں یہ خوب یاد رکھو کہ بیعت کرکے تم نے اپنے آپ کو بیچ دیا ہے کیونکہ یہی بیعت کی حقیقت ہے۔سنو ! بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ حق نہیں بتاتے اس لئے کہ ان کی غرض صرف چند پیسے ہوتی ہے۔وہ اپنے چندے سے غرض رکھتے ہیں مگر میں تو چندہ نہیں مانگتا اور نہ مجھے ضرورت۔مجھے اپنی ذات اور نفس کے لئے بھی ضرورت نہیں اور اپنی اولاد کے لئے بھی نہیں۔میرے بچے چھوٹے چھوٹے ہیں اور وہ جانتے ہی نہیں کہ ہمارے باپ نے ہمارے لئے کیا چھوڑا۔میں نے اپنے باپ کی جائیداد میں سے ایک روپیہ نقد بھی نہیں لیا مگر میرے خدا نے مجھے بہت کچھ دیا۔پھر جس نے مجھے دیا میں اپنی اولاد کے متعلق یہ وہم کروں کہ وہ اسے چھوڑ دے گا؟ ہرگز نہیں۔میں اگر اپنی اولاد کے لئے یہ فکر کروں کہ ان کے واسطے کچھ چھوڑوں تو مجھ سے بڑا احمق کون ہوگا۔پھر اس حالت میں کہ میں موت کے قریب ہوں کیونکہ بڈھے جوانوں سے زیادہ مرتے ہیں۔میں تمہیں ایک اصل بتاتا ہوں اس کوہاتھ سے کبھی نہ چھوڑو۔جناب الٰہی سے دعا کیا کرو کہ تم سے غلطی نہ ہو بہت استغفار کرو اور لا حول پڑھو۔اگر یہ خیال شیطانی ہے تواللہ تعالیٰ رحم کرے۔