خطابات نور — Page 352
حقیقت البیعت {تقریرفرمودہ ۲۵ ؍ مارچ ۱۹۱۰ء بروز جمعہ بعد نماز عصر} بیعت کے معنی بِک جانے کے ہیں۔جو شخص بیعت کرتا ہے وہ اپنے آپ کو بیچ دیتا ہے۔یاد رکھو کہ اپنے آپ کو بیچ دینا معمولی کام نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔جو شخص بیعت لیتا ہے اس کی ذمہ داری کو تو تم سمجھ ہی نہیں سکتے۔یہ بہت خطرناک کام ہے۔اگر ہم اس ذمہ داری کو سوچ کر اس ستر برس سے متجاوز عمر میں بھی کسی کو دھوکا دیں اور دنیا کے کتوں کی طرح یہ کوشش کریں کہ تمہیں اپنے مطلب پر ڈھال لوں اور کچھ حاصل کروں تو اس سے بڑھ کر لعنتی کام کیا ہوگا؟ خدا تعالیٰ نے اس وقت تک میری پرورش فرمائی ہے اور ہر طرح سے مجھے نوازا ہے۔میں نے اس کے فضلوں کو اپنے شامل حال دیکھا ہے۔کیا اس ستر برس کے تجربہ کے بعد بھی میں یہ کام کرسکتا ہوں۔پھر تم لوگ اپنا حرج کرکے اور خرچ کرکے آئے ہو۔کیا اس لئے کہ کسی فریبی کو دیکھو۔وطن چھوڑ کر اور کرایہ دے کر تمہیں آنا پڑا ہے اور معمولی اخراجات کے علاوہ چندے بھی تمہیں دینے ہوں گے۔پھر وطن اور اقارب سے الگ ہو۔یہاں تمہیں وہ آرام نہیں مل سکتا جو وطن اور گھر میں حاصل تھا۔سب کو چارپائی نہیں ملے گی اور زمین پر سونا پڑے گا حالانکہ گھر پر تمہیں چارپائیاں حاصل تھیں۔وہاں مرضی کے موافق کھانا ملتا تھا یہاں شاید یہ بات نہ ہو۔وہاں انسان کچھ نہ کچھ کماتا ہے اور یہاں کمایا ہوا بھی دینا پڑتا ہے۔اس قسم کی مشکلات کو دیکھ کر بھی تم اگر محض دھوکا کھا کر آتے ہو تو یہ کیسا خطرناک امر ہے۔مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے۔پھر میرا کام تو اور بھی مشکل ہے۔میرا حال تو ایسا ہے کہ گویا بیعت لیتے وقت تلوار کی دھار پر چلنا پڑتا ہے۔میرے دل میں کبھی یہ خواہش اور آرزو نہیںپیدا ہوئی کہ لوگوں سے بیعت لوں۔میں اپنی جان پر کسی کی بیعت کرلینا بیعت لینے سے بہت آسان سمجھتا تھا۔میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آئی تھی۔پیر بننے کی خواہش نہ تھی اور