خطابات نور — Page 348
ایمان کی مضبوطی {تقریر فرمودہ ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۹ء } حضرت امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین ؓ نے ۲۸؍مارچ ۱۹۰۹ء کو جبکہ لاہور سے خواجہ کمال الدین صاحب ‘ شیخ رحمت اللہ صاحب‘ ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب‘ مرزا یعقوب بیگ صاحب تشریف لائے ہوئے تھے۔ایک موقع پر اپنے خدام کی طرف مخاطب ہو کر جو مختصر سی تقریر فرمائی تھی اس کو میرے عزیز مبارک اسماعیل نے نوٹ کیا تھا اور اسی نے صاف کیا ہے اور ناظرین الحکم تک پہنچانے کا واسطہ ہوا ہے۔اس کے لئے ناظرین دعا کریں۔(ایڈیٹر الحکم) اگر آدمی کا ایمان مضبوط ہو تو اس کو کوئی دکھ نہیں پہنچ سکتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کو دیکھو۔غیر مذاہب والوں نے بھی ان کے ایمان پر یقین کیا ہے۔اس واقعہ کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کا نام سارہ تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک دفعہ مع اپنی بیوی کے مصر جانے کا اتفاق ہوا۔مصر کے آدمی چونکہ بدصورت ہوتے تھے۔اس لئے مصر کے بادشاہ کو لوگوں نے خبر کی کہ آپ کی سلطنت میں فلاں مقام کی ایک بہت خوبصورت عورت آئی ہے۔بادشاہ نے اپنے آدمیوں کو بھیجا کہ اس عورت (حضرت سارہ) کو پکڑ لائیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اس بات کا پتہ لگا تو انہوں نے حضرت سارہ سے فرمایا کہ تم پر اب ایک ایسا حادثہ ہونے والا ہے۔تم ہمیشہ دعا میں لگی رہنا اور اسی پر دارومدار رکھنا۔خدا تعالیٰ دعا سے تمام مشکلات حل کردیتا ہے۔حضرت سارہ کو لوگ زبردستی پکڑ کر اس بادشاہ کے پاس لے گئے۔بادشاہ نے فعل بد کا ارادہ کیا۔جب پاس گیا تو اس پر فالج گرا۔غرض کہ تین مرتبہ اس نے ارادہ کیا اور تینوں مرتبہ اس پر فالج گرا۔آخر اس نے تنگ آکر حضرت سارہ سے تمام حال پوچھا۔انہوں نے جواب دیا کہ میرا خاوند ایسا نیک ہے اور اس قسم کا آدمی ہے۔۔۔تمام کیفیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنادی۔بادشاہ کے دل پر حضرت سارہ کی باتوں کا ایسا اثر پڑا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلایا۔وہ جب