خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 337 of 660

خطابات نور — Page 337

سرچشمہ دین ہے۔مگر دین کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔علم اور قدرت سے ایک دیندار عالم اگر پاگل ہوجاوے تو کس کام کا۔پس ان سب کا خلاصہ کیا ہوا؟ انسان اپنی جان سے پیار کرتا ہے۔اپنی بقاء سے پیار کرتا ہے۔پھر صحت سے پیار کرتا ہے۔پھر سلامتی سے پیار کرتا ہے۔مگر اس پیار کو حسن و جمال پر قربان کر دیتا ہے اور اسے کمال احسان پر قربان کرتا ہے اور حسن و احسان دونوں کو کامل دین کے لئے نثار کرتا ہے۔پھر جب اس کی عقل جاتی رہے۔تو اتقی اور علم پر اسے بھی قربان کردیتا ہے۔اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ حسینوں کو کس نے پیدا کیا۔کون حسن کو قائم رکھتا ہے۔کس کی دی ہوئی آنکھوں، کانوں، ناکوں اور زبان سے متمتع ہوتے ہیں۔مالوں سے کون متمتع کرتا ہے۔محسنوں کو وہ چیزیں کون دیتا ہے۔جس سے وہ کسی پر احسان کرتے ہیں۔علم و دین اور قدرت کا سرچشمہ کون ہے؟ جواب یہی ہوگا کہ ایک وراء الوراء ذات ہے جو ان تمام صفات کاملہ کی جامع ہے۔پس معلوم ہوا کہ حقیقی محبوب وہی ہونا چاہئے اور تمام محبوب اس پر قربان کردینے کے قابل ہیں۔وہ ایک ایسا محبوب ہے کہ اس میں بقاء بھی ہے۔پھر ایسی بقاء کہ اس کو زوال نہیں۔بلکہ کمال ہے۔کمال احسان ہے اور کمال حسن بھی وہ (النور:۳۶) پھر اللہ تعالیٰ اگر محبوب بنا ہے۔تو وہ (النور:۳۶) ہے۔اس کے علم کے سامنے کسی کا علم ہستی ہی کیا رکھتا ہے۔انسان کبھی کبھی شجاعت کے کرشمے دیکھنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پہلوانوں کے دنگل میں بیس بیس روپیہ ٹکٹ کی قیمت دے کر بھی چلا جاتا ہے۔مگر اس سلسلہ کو ذرالمبا کرکے غور کرو۔علیؓ کی شجاعت پر بھی نظر کرو اور پھر خدتعالیٰ کی شجاعت کو دیکھو۔(النور:۴۶) اور (القمر:۵۶) ہے۔حسن اور احسان میں کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔محبوب اور ان کے حسن، محسن اور ان کے احسان کس نے بنائے؟ ہم دھوپ میں ہوں تو سایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر دھوپ اور سایہ کس نے بنائے؟ اندھیرے میں ہوں تو روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر روشنی کس نے بنائی؟ یہ سارا سلسلہ بالآخر جناب الٰہی پر جاکر ختم ہوجاتا ہے اور وہ حقیقی محبت کا چشمہ قرار پاتا ہے۔پھر دوسرے محبوبوں میں ایک نقص عظیم ہے کہ ان کی خوبیاں زوال پذیر ہیں اور بعض وقت ایسے نقص