خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 310 of 660

خطابات نور — Page 310

پھر کیوں مصیبت آتی ہے۔وہ میری عزیز رشتہ دار تھی۔میں نے کہا کہ تمہارے میاں کہاں رہتے ہیں۔اس نے کہا کہ وہ تو باہر دور سفر میں ہیں۔پھر پوچھا کہ انہوں نے کوئی خط تو نہیں بھیجا۔بولی ہاں! اس پر میں نے کہا کہ تم خود تو پڑھ نہیں سکتی ہو کیا کیا کرتی ہو؟ جواب دیا کہ برقعہ لے کر کسی پڑھے ہوئے کے پاس جاکر پڑھا لاتی ہوں اور جو کچھ وہ اس میں وہ حکم کرتے ہیں اس کی تعمیل کردیتی ہوں۔میں نے اس کو کہا کہ خط کے پڑھانے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔جب آیا لے کر رکھ دیا اس نے کہا کہ یہ تو بری بات ہے۔ایسا گناہ میں تو کر نہیں سکتی۔خاوند مجازی خدا ہوتا ہے۔اس کے حکم کو نہ مان کر گناہ کروں۔اس پر میں نے اس کو متنبہ کیا کہ حقیقی خدا کی بھی ایک چٹھی آئی ہے۔اس کا نام قرآن مجید ہے اور چٹھی رساں جبرائیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کہا قربان جائوں وہ تو نبی رسول ہیں۔ان کا تو کلمہ پڑھتے ہیں۔میں نے کہا کہ پھر اس چٹھی کی کیا قدر کی؟ اس کا تو ایک کلمہ بھی نہ پڑھا اور نہ کسی سے سنا۔اس سے بڑھ کر گناہ کیا ہوگا؟ تم تو سارے گناہ کی جامع ہوگئی۔اس پر وہ بہت ہی نادم ہوئی۔یہ کہانی میں نے ہنسی کے لئے نہیں سنائی۔بلکہ اس لئے سنائی ہے کہ علم ذنب کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن مجید کو پڑھو یا سنو اور دل لگا کر پڑھو اور سنو۔میں سچ کہتا ہوں کہ ذنب کا پتہ لگ سکتا ہی نہیں جب تک قرآن کا علم نہ ہو۔جب تک علم نہیں ہوتا انسان گناہوں پر دلیر ہوتا ہے۔لیکن جب اسے علم ہو جاتا ہے تب اسے گناہوں سے حجاب پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے تحریک ہوتی ہے کہ وہ گناہ چھوٹ جاویں۔اس سے پھر ندامت پیدا ہوتی ہے اور ماضی کے لئے افسوس کرتا ہے اور حال میں ترک اور آئندہ کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔یہ توبہ ہے۔پس (النور :۳۲)۔اس میں سب شامل ہیں اولیاء اور انبیاء بھی۔ان کی توبہ اور ان کے ذنوب کی حقیقت ہی اور ہوتی ہے۔میں تم کو ایک بڑے فکر کی بات سناتا ہوں۔انسان کو ایک بڑی لڑائی کے لئے تیار ہونا چاہئے جو ترک معاصی کی لڑائی ہے۔پہلے پہل جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ خدا شناسی کو کیا جانتا ہے۔(النحل :۷۹)۔اس سے یہ مراد نہیں کہ تمہیں دودھ پینا نہیں آتا تھا۔بلکہ یہ کہ تم نیکی بدی کی حقیقت سے محض نا آشنا اور ناواقف تھے۔