خطابات نور — Page 309
تو نہ دو گے۔اس نے کہا کہ نہیں۔اس پر میں نے کہا کہ جس کتاب کا تم حوالہ دیتے ہو۔اس میں یہ بھی لکھا ہے (البقرۃ :۸۶)۔بتائو کہ تم سارے قرآن کو مانتے ہو یا اس کے بعض کو۔اس نے جواب دیا۔نہیں میں تو سارے ہی کو مانتا ہوں۔اس پر میں نے اسے کہا کہ پھر اس میں لکھا ہوا ہے۔(النساء :۱۵۱)۔اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ جو اللہ کو مانتے ہیں اور رسولوں کو نہیں مانتے وہی پکے کافر ہیں۔پس یہ آیت تو تیرے پکے کافر ہونے کی دلیل ہے۔اس کو سن کر کہا کہ میں اب رسولوں پر ایمان لاتا ہوں اور اس نے سمجھ لیا کہ رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔پھر میں نے کہا کہ اسی پر بس نہیں۔قرآن مجید میں ایک اور آیت بھی ہے۔ (المؤمنون :۱۰)یعنی جو آخرۃ پر ایمان لاتے ہیں۔وہ قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں۔غرض پانچ عقائد ہیں جو مذکور ہوئے (۱)لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ (۲) نماز( جو ابھی پڑھی ہے) (۳) روزہ (۴) زکوٰۃ (۵) حج( حج مکّہ کا ہوتا ہے)۔زکوٰۃ ۵۲ تولہ چاندی میں سوا ایک تولہ‘ ساڑھے سات تولہ سونا میں ڈھائی ماشہ۔تب اس نے کہا کہ یارسول اللہ پانچ اور ہیں جو ہم ادا کرتے ہیں (۱) الصبر علی البلاء۔(۲) والشکر علی الرخاء۔(۳) والرضاء بالقضاء۔(۴) والصدق عندالعلاء۔(۵) و ترک الشما تۃ الاعداء۔اس پر پانچ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائیں الذین یتقون۔ہر کام میں دیکھ لو کہ اللہ توبہ کہتے ہیں ترک کو۔نماز، روزہ ،حج، زکوٰۃ اور دوسری نیکیوں کے ترک کو توبہ نہیں کہتے بلکہ توبہ کہتے ہیں ترک قبیح کو اور یہ فعل ترک علم سے پیدا ہوتا ہے یعنی اس فعل کی قباحت کا علم ہونا چاہئے۔اس کو ذنب کا علم بھی کہتے ہیں۔ذنب کی عجیب در عجیب شاخیں ہیں۔ایک عورت یہاں آئی اس نے کہا کہ تو ہمیشہ وعظوں میں کہتا رہتا ہے کہ مصیبت گناہ سے آتی ہے۔مگر میں نے خدا کا کوئی گناہ نہیں کیا۔مجھے