خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 660

خطابات نور — Page 27

ذبح کروا ہی لیا کیا کیا اجر دئیے۔وہ لڑکا جس نے رضا الٰہی کے لئے مرنے سے پہلے مرنا اختیار کیا خدا نے اسے کیسا زندہ کیا کہ قیامت تک بادشاہ لوگ اپنے آپ کو اس کی اولاد میں سے ہونے کا فخر کرتے رہیں گے۔اس کی اولاد کے بچے بھی سید یعنی سردار کہلاتے ہیں۔خدا نے اس کا نام صادق الوعد رکھ دیا۔کیا یہ کوئی چھوٹے بدلے ہیں۔نہیں نہیں یہ بڑی بات ہے جو ہر ایک کے نصیب نہیں ہوتی۔سرور کائنات بھی انہی کی اولاد میں سے ہیں۔کیا یہ کوئی تھوڑی بات ہے مگر کیا وجہ وہی کہ اس نے خدا کو ناراض نہ کرنا چاہا۔اس کی رضا کے لئے مرنے سے پہلے مرنا اختیار کیا۔خدا عملوں کو دیکھتا ہے ظاہر شان وشوکت پر ہی یہ انعامات منحصر نہیں جس کو چاہے چن لیوے۔ایک اور یتیم بچے کا حال بھی سن لو۔اس بچے کا نام محمد تھا صلی اللہ علیہ وسلم۔وہی ہمارا سید ومولیٰ وہی ہمارا آقا اور شفیع۔ان کے والد ماجد جب وہ ماں کے پیٹ میں تھے اور والدہ بزرگوارہ ڈھا ئی سال کا بچہ چھوڑ کر اس جہان سے کوچ کر گئے تھے۔کون تھا جس کے ہاتھ سے پرورش ہوتی۔تم سوچو اس بچے کا کیا حال ہوتا ہے جس کے والدین اسے چھوٹی عمر میں فوت ہو جاویں۔مگر پھر اس یتیم بچے کی کامیابیاں دیکھو کہ کیا اس سے پہلے دنیا میں کوئی آج تک کامیاب ہوا۔نہیں ہرگز نہیں ویسا کامیاب نہ کوئی ہوا اور نہ ہو گا۔اس کا باعث بھی یہی تھا کہ اس نے مخلوق کی پرواہ نہ کر کے خدا سے تعلق پیدا کر لیا تھا اور اس کے ساتھ دوستی لگالی تھی اور ساری کامیابی کہ آج دنیا میں کروڑوں آدمی کے قریب ہر دم اس پر درود پڑھے اور اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کے نعرے اُڑ رہے ہیں۔صرف اسی دوستی کا نتیجہ ہے جو اس خدا کے پیارے نے خدا سے کی تھی۔تم کو ان کے بچپن کا ایک حال سناتا ہوں۔مکّہ معظمہ میں ان دنوں ایک بڑی انجمن تھی جس میں چالیس سال کے کم عمر کے لوگ شریک نہیں ہوسکتے تھے۔اس انجمن کو ندوہ کہتے تھے اور ان لوگوں نے ان بچوں کو فضول سمجھ رکھا تھا۔تو رسول اللہ ایسی انجمن میں شریک ہوئے جو کم عمر لوگوں سے بنی تھی۔اس انجمن کا ایک کام یہ تھا کہ کوئی مسافر وہاں آگیا ہو اور کسی مصیبت کے باعث اس کے پاس واپس جانے کا خرچ نہ رہا ہو تو اس کی مدد کرنا اور غرباء مساکین کی مدد کرنا اور ایسی قسم کے مظلوموں کی امداد کرنا جن کے ننگ وناموس پر کسی نے حملہ کیا ہو وغیرہ وغیرہ۔غرض اپنی نیک نیتی کے باعث سے انہوں نے اس میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل