خطابات نور — Page 26
مت کرو۔تھوڑی تھوڑی باتوں میں اختلاف کر کے اس انجمن سے الگ نہ ہو جایا کرو۔دعائیں کیا کرو۔اس کم ہمتی کو دل میں نہ آنے دو کہ ہم کیا کر سکتے ہیں چھوٹے ہیں اور کل بارہ لڑکے ہیں تم ابھی سن چکے ہو کہ اس بچے یوسف نامی کو ماں باپ سے ملک سے گھربار سے جدا کر دیا گیا تھا چھوٹی سی عمر تھی اور اس میں لطیفہ یہ کہ تم میں سے تو ہر ایک کے گیارہ معین ومددگار ہیں اس بیچارے کے گیارہ بھائی جانی دشمن تھے۔تو دیکھو اس نے اپنے خدا کو راضی کر کے کیا مرتبہ حاصل کیا اور کس کامیابی کو پہنچا۔اللہ فرماتا ہے۔ (یوسف :۲۲) یعنی ہم نے اس کو زمین میں بڑی طاقت عنایت فرمائی تھی۔نام ایسا عزت سے اب بھی لیا جاتا ہے کہ جو بولتا ہے وہی یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کر کے بولتا ہے۔غرض خدا کے دربار سے ناامید نہ ہو جیو۔اس کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش سے جس طرح یوسف علیہ السلام نے کامیابیاں حاصل کیں تم بھی اپنی اس انجمن کو ترقی دو اور خدا تعالیٰ سے ایک محبت کا رشتہ بنا لو تا وہ تم کو اور لوگوں سے تمیز کر کے رکھ لے اور تم اس کی نظر میں پیارے ہو جائو۔قربان جائیے اس کتاب کے کہ انسان کی ساری ضرورتوں کو جو اسے موقع بموقع بچپن سے بڑھاپے تک اور مرنے تک پڑتی ہیں ان سب کو ہی پورا کرتی ہے۔دیکھو آج تم بچوں کے سامنے کچھ بیان کی ضرورت تھی اور نمونہ بھی دکھانا تھا جس کو مدنظر رکھ کر کام کرو تو کس طرح اس نے میرے دل میں مناسب موقع اس بچے کا حال ڈال دیا۔اسی پر کفایت نہیں کروا بھی سن لو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام تم جانتے ہو گے ایک بڑے عظیم الشان خدا کے پیارے نبی گزرے ہیں۔ان کو خواب میں دکھایا گیا کہ گویا وہ اپنے بیٹے اسمٰعیل کو ذبح کرتے ہیں اس وقت اس بچے کی عمر معلوم ہوتا ہے کہ قریبا تیرہ برس کی تھی۔حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو کہا کہ بیٹے میں نے دیکھا ہے کہ تم کو ذبح کرتا ہوں بیٹے کی فرمانبرداری دیکھو کہ کوئی عذر نہیں کیا بلکہ کہہ دیا کہ (الصّٰفّٰت:۱۰۳) اے باپ جو آپ کو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے انشاء اللہ تعالی مجھے آپ صابر پاویں گے۔اس وعدہ پر پکا رہوں گا۔اب ذرا دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اس فرمانبردار بچے کو جس نے اپنے آپ کو حکم الٰہی کے موجب گویا