خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 269 of 660

خطابات نور — Page 269

ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(القدر :۲)۔ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں اتارا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو تعظیماً یا جس طرح ہو قرآن کریم کا منزّل بیان فرماتا ہے۔پھر اپنے خادم کو فرماتا ہے۔(الشعرآء : ۱۹۴)۔اس قرآن کو روح الامین نے نازل کیا ہے۔بلکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا جبرائیل کی نسبت فرماتا ہے۔(الحاقۃ :۴۱) یہ قرآن رسول کریم کا قول ہے۔اسماء ظاہر میں بھی جب وہ فاعل واقع ہوں ایسا ہی قاعدہ قرآن کریم میں پایا جاتاہے اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔۱۔(الزمر :۴۳)۔اللہ تعالیٰ روح کو قبض کرتا ہے موت کے وقت اور پھر فرماتا ہے۔۲۔(السجدۃ :۱۲) ملک الموت جو تم پر وکیل ہے وہ تمہاری روح کو قبض کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے۔۳۔(النساء :۹۸)۔ان ظالموں کی روح کو ملائکہ قبض کرتے ہیں۔ان آیات کریمہ میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ ہی کو متوفی فرمایا ہے اور پھر ملک الموت کو اور پھر اور اور ملائکہ کو۔اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں۔ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبۃ میں مخاطب کی اولاد، مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہوسکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی‘ کیا داخل نہیں ہوسکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا؟ اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہوجاوے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا پھر یہی وجہ بیان کی والحمدللّٰہ ربّ العالمین۔اسی طرح مبارک احمد کے بدلہ میں اگر اللہ تعالیٰ اس کا نعم البدل عطا کرے جس کا ہم کو یقین ہے کیونکہ اللہ و رسول کا ہم سے وعدہ ہے کہ اگر ہر ایک ہم سے اِنّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِی