خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 268 of 660

خطابات نور — Page 268

(البقرۃ :۵۰)۔یاد کرو جب ہم نے بچایا تم کو فرعونیوں سے تم کو برا دکھ دیتے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے۔اور فرماتا ہے۔(البقرۃ :۵۱)۔اور جب فرق ڈال دیا ہم نے تمھارے لئے دریا میں اور پھر بچالیا تم کو۔پھر فرماتا ہے۔(البقرۃ :۵۲)۔پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو معبود پیچھے اس کے اور تم ظالم ہو۔  (البقرۃ :۵۹) اور جب کہا ہم نے، داخل ہو تم اس بستی میں پس کھائو تم اس سے۔(البقرۃ :۶۲) اور جب کہا تم نے اے موسیٰ ہم صبر نہ کریں گے ایک طعام پر پس دعا مانگ ہمارے لئے۔اور کثرت سے یہ طرز قرآن مجید میں ہے کہ مخاطب کوئی ہوتا ہے اور مراد گاہے وہی اور گا ہے اس کا مثل ہوتا ہے۔اسی طرح ضمیر غائب میں کبھی خود مرجع مراد ہوتا ہے اور گا ہے اس کا مثل۔نحو میں اَخَذْتُ الدِّرْھَمَ وَنِصْفَہٗ کی مثال دیتے ہیں کیونکہ اس سے منشاء عرب میں ڈیڑھ درہم ہوتا ہے نہ ایک درہم اور قرآن کریم کی بہت جگہ میں سے ایک جگہ لکھتا ہوں (فاطر :۱۲) اور نہیں عمر دیا جاتا بڑا بوڑھا اور نہ کچھ کم کیا جاتا ہے بوڑھے کی مثل اور کم عمر کی عمر سے۔اس آیت میں عُمُرِہٖ کی ضمیر مُعَمَّر کی طرف تو جا نہیں سکتی اس لئے مُعَمَّر کی مثل اور انسان مراد ہے۔ضمیر متکلم میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے چند مثالیں سن لو۔ (اٰل عمران :۱۵۵)ترجمہ: اگر اس حکومت میں ہمارا تعلق و دخل ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔اب یہاں ایک مسلمان غور کرے کہ قُتِلْنَا کہنے والے کیا مقتول اور جنگ احد کے شہید مراد ہیں یا ان کے زندہ بھائی بند مراد ہیں۔