خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 250 of 660

خطابات نور — Page 250

وفاتِ مسیح موعودؑ  نحمدہٗ و نصلی علٰی رسولـہ الـکریم و آلِـہٖ مع البرکات و التسلیم امّا بعد فاشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمّداً عبدہ ورسولہ ثم اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم ا۔(المائدۃ :۷۶) ۲۔    (اٰل عمران : ۱۴۵) ان دونوں آیتوں پر غور کریں۔کیا فرماتی ہیں اگر پہلی آیت کریمہ مسیح ابن مریم کو رسول فرماکر اس کے گزر جانے کا ذکر فرماتی ہے تو دوسری آیت ّبینہ کیا ہی دلربا تعلیم دیتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے خاتم النبیین رسول ربّ العالمین کو اگر موت آجاوے یا وہ بالفرض قتل کئے جاویں تو کیا تم لوگ الٹے پائوں اپنی ایڑیوں پر لوٹ جائو گے؟ اور جو کوئی الٹا پھرا اپنی ایڑیوں پر پس وہ ہرگز ضرر نہ دے سکے گا اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی اور عنقریب ہی اللہ بدلہ دے گا ان قدر کرنے والوں کو۔کیا معنے ؟حضرت نبی کریمؐ کے اللہ مولیٰ نے تم کو جن بد اعتقادیوں اور بدچلنیوں سے ایک پاک روح کے طفیل نکالا۔کیا اس کے مرجانے کے بعد تم ان عقائد غیر صحیحہ اور اقوال و افعال و اعمال باطلہ کی طرف پھر رجوع کرجائو گے؟ ایسا نہ کرنا کیونکہ وہ اعمال و افعال و اقوال بہرحال گھنونے اور اسی لائق تھے کہ ان کو ترک کیا جاوے۔وہ تو کسی طرح بھی قابل عملدرآمد نہیں تھے۔رہے تمھارے مشکلات اور وہ ابتلا جو تم کو اپنے ہادی کے بعد آئیں گے سو ان کی پروا مت کرنا۔تم نے اس پاک وجود کی اور اس کی پاک تعلیم کی قدر کی اور اس کے شکر گزار ہوئے تو اللہ تعالیٰ بھی جو حقیقی شکور ہے بڑا قدردان