خطابات نور — Page 249
زمانے میں عرب میں ایسی بلاپھیلی تھی کہ سوا مکہ اور مدینہ اور جواثہ کے سخت شورو شر اٹھا۔مکہ والے بھی فرنٹ ہونے لگے مگر وہ بڑی پاک روح تھی جس نے انہیں کہا کہ اسلام لانے میںتم سب سے پیچھے ہو۔مرتد ہونے میں کیوں پہلے بنتے ہو۔صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے باپ کے اوپر جو پہاڑ گرا ہے وہ کسی اور پر گرتا تو ُچور ہو جاتا۔پھر بیس ہزار کی جماعت مدینہ میں موجود تھی اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حکم دے چکے تھے کہ ایک لشکر روانہ کرنا ہے پس اس کو بھیج دیا۔ادھر اپنی قوم کا یہ حال تھا مگر آخر خدا نے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھلایا۔(النور:۵۶) کا زمانہ آگیا۔اس وقت بھی اس قسم کا واقعہ پیش آیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے۔نبی کریم صلعم کے بعد ابو بکر کے زمانہ میں صحابہ کرام کو بہت سی مساعی جمیلہ کرنی پڑیں۔سب سے پہلا اہم کام جو کیا وہ جمع قرآن ہے۔اب موجودہ صور ت میں جمع یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کرنے کی طرف خاص توجہ ہو۔پھر حضرت ابو بکر نے زکوٰ ۃ کا انتظام کیا۔یہ بڑا عظیم الشان کام ہے انتظام زکوٰۃ کے لئے اعلیٰ درجے کی فرمانبرداری کی ضرورت ہے۔پھر کنبہ کی پرورش ہے غرض کئی ایسے کام ہیں۔خلیفۃ المسیح اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعاً و کرہاًاس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائطبدستور قائم ہیں ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوٰۃ کا انتظام کرنے واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتاًفوقتاًاللہ میرے دل میں ڈالے کو شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات ‘ دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھا تا ہوں۔جس نے فرمایا۔(اٰل عمران:۱۰۵)۔یاد رکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں۔جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی۔فقط (الحکم ۶؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷،۸) ٭…٭…٭